5 سالہ گندم پالیسی تیار کررہے ہیں، وزیر غذائی تحفظ
- پالیسی کا مقصد جدید اصلاحات کے ذریعے قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے، رانا تنویر حسین
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ہفتہ کے روز کہا ہے کہ حکومت 2026 تا 2030 کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی گندم پالیسی تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد جدید اصلاحات کے ذریعے قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بات نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں ملک بھر میں گندم کی خریداری کے انتظامات، ذخائر کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ پالیسی میں ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام، سپلائی چین کی بہتر نگرانی، شفافیت میں اضافہ اور قیمتوں کے پائیدار استحکام پر توجہ دی جائے گی تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ نئی فصل کی آمد تک قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے تمام صوبوں میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں گندم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں اور منڈیوں میں بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران صوبوں نے اپنی خریداری حکمت عملیوں سے متعلق بریفنگ دی۔
حکومت خیبر پختونخوا نے گندم کی خریداری کے لیے ہائبرڈ ماڈل اختیار کیا ہے جس میں 75 فیصد حصہ سرکاری شعبے اور 25 فیصد نجی شعبے کا ہوگا، تاکہ کارکردگی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ردعمل کو بہتر بنایا جا سکے۔
حکومت سندھ نے کمیٹی کو بتایا کہ گندم کی خریداری سرکاری شعبے کے ذریعے کی جائے گی تاکہ فراہمی میں استحکام اور قیمتوں کے مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گندم کی اشاریہ جاتی خریداری قیمت 3,500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی گئی ہے اور صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خریداری آپریشنز کے ہموار نفاذ کو یقینی بنائیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ خریداری فریم ورک ایک سال تک برقرار رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments