پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، جولائی تا جنوری 20 فیصد اضافے کے ساتھ 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
- برآمدی آمدنی میں اضافے کی بڑی وجہ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے حاصل کردہ زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں دہرے ہندسوں میں اضافے کا تسلسل برقرار ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران مجموعی وصولیاں 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 2.17 ارب ڈالر تھا، جو سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد نمو یا مجموعی طور پر 431 ملین ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
برآمدی وصولیوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ آئی ٹی کمپنیوں، ریموٹ پروفیشنلز اور مختلف عالمی مارکیٹوں میں بین الاقوامی کلائنٹس کو خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز کی غیر ملکی آمدنی میں اضافہ ہے۔
آئی ٹی ایکسپورٹر اور ایس آئی گلوبل سلوشنز کے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کا شعبہ ملک کی خدمات کی برآمدات کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس (بچت) میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تحت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے پاکستان کو اپنی آئی ٹی خدمات، حل اور مصنوعات کے ذریعے دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو معیاری تربیت فراہم کرنی چاہیے اور انہیں سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دونوں نظاموں میں جدید ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے لیس کرنا چاہیے،ان کے بقول اس اقدام سے نہ صرف مقامی مارکیٹ کے لیے افرادی قوت میسر آئے گی بلکہ اہل پیشہ ور افراد بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اپنی خدمات پیش کر سکیں گے۔
دسمبر 2025ء میں آئی ٹی برآمدات 437 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ 348 ملین ڈالر تھیں، جو کہ آئی ٹی سیکٹر کی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ برآمدات ہیں، تاہم جنوری میں برآمدی وصولیاں 374 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں اور فن ٹیک آپریٹرز نے جائٹیکس گلوبل، جائٹیکس یورپ، لیپ (ایل ای اے پی)، سنگاپور فن ٹیک فیسٹیول، منی 20/20 اور امریکہ و برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے روڈ شوز اور کانفرنسوں سمیت عالمی نمائشوں میں بھرپور شرکت کی ہے۔
اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) بھی آئی ٹی کمپنیوں، فن ٹیک آپریٹرز اور ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔
پاشا کی اے آئی کمیٹی کی رکن مہوش سلمان علی نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی وجہ روایتی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں بالخصوص خلیجی خطے میں پاکستانی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی کمپنیوں کو امریکہ، یورپ اور خلیجی منڈیوں میں مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ اینچرز) اور شراکت داری کے ذریعے بڑے کلائنٹس کو ہدف بنانا چاہیے، تاکہ زیادہ منافع اور سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔
سال 2025ء میں پاکستان نے سعودی عرب میں نئے مواقع تلاش کیے، جہاں دونوں برادر ممالک کی سہولت کاری اور بہتر دوطرفہ تزویراتی و دفاعی تعلقات کی وجہ سے کئی آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی ذیلی شاخیں اور آف شور دفاتر قائم کیے ہیں۔
آئی ٹی سیکٹر خدمات کی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ دار ہے اور مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ گزشتہ سال آئی ٹی سیکٹر نے 3.8 ارب ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کیں، جو چاول کے شعبے (3.6 ارب ڈالر) سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔


Comments