اسٹیٹ بینک نے بینکنگ نظام اور صارفین کے تحفظ کیلئے سائبر شیلڈ کا آغاز کردیا
- اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اسٹریٹیجی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو سائبر خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے
عالمی اور ملکی سطح پر بڑھتے ہوئے سائبر خطرات اور مالیاتی نظام سے متعلق چیلنجز کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ’سائبر شیلڈ – ریگولیٹڈ اداروں کے لیے سائبر ریزیلینس اسٹریٹیجی‘ کا آغاز کیا ہے۔ یہ ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد ملک کے بینکنگ اور مالیاتی نظام کی حفاظت اور مضبوطی کو بڑھانا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اسٹریٹیجی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو سائبر خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ عوام اور کاروباری ادارے مالی خدمات تک محفوظ رسائی حاصل کر سکیں۔ اس میں واضح روڈ میپ دیا گیا ہے جو مالیاتی اداروں کو اپنے سسٹمز اور کنٹرولز کو مضبوط بنانے، سائبر حملوں کو روکنے، خطرات کے سامنے آنے پر فوری ردعمل دینے اور متاثرہ نظام سے مؤثر طریقے سے بازیابی میں مدد فراہم کرے گا۔
بینکنگ ایکو سسٹم کو جدید اور پیچیدہ سائبر خطرات کا سامنا ہے، اس لیے اس اسٹریٹیجی کا مقصد ریگولیٹڈ اداروں کی سائبر دفاعی صلاحیت کو مجموعی، مستقبل بین اور مشترکہ نقطہ نظر کے تحت بڑھانا ہے۔ اس میں پانچ اہم ترجیحات پر زور دیا گیا ہے: سائبر حملوں کے خلاف بینکوں کی مزاحمت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، سائبر سکیورٹی میں گورننس اور جوابدہی کو بہتر کرنا، مالیاتی شعبے میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی، ماہر سائبر ٹیلنٹ تیار کرنا اور نئے خطرات کے مطابق سکیورٹی اقدامات کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا۔
اسٹیٹ بینک عالمی اور ملکی سطح پر سائبر کی ترقیاتی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھے گا اور ابھرتے ہوئے خطرات کے مطابق اسٹریٹیجی میں ضروری ترامیم کرے گا۔ اس اقدام کے ذریعے بینکنگ سیکٹر میں سائبر ریزیلینس کو مضبوط بنا کر صارفین کی حفاظت، ڈیجیٹل انوویشن کو محفوظ ماحول میں فروغ اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس اسٹریٹیجی کے تحت طے شدہ مراحل کو 2030 تک مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا اور تمام ریگولیٹڈ ادارے اپنے داخلی سائبر سکیورٹی پروگرامز کو اس کے مطابق ڈھالنے کے پابند ہوں گے۔ موجودہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ غیر معمولی مواقع کے ساتھ پیچیدہ خطرات بھی جڑے ہیں۔ اس اسٹریٹیجی کا بنیادی مقصد ایک جامع اور مربوط نقطہ نظر فراہم کرنا ہے جو اداروں کو مسلسل سائبر خطرات کے مطابق ڈھالنے، نظام کی حفاظت بڑھانے اور کسی کامیاب حملے کے بعد کاروباری سرگرمیاں فوری بحال کرنے کی صلاحیت دے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments