پاکستان اور روس کا براہِ راست زمینی و فضائی رابطوں میں توسیع پر اتفاق
- وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے روسی نائب وزیر ٹرانسپورٹ دیمتری اسٹینسلاوووچ زیوریف کی ملاقات
پاکستان اور روس نے براہِ راست زمینی اور فضائی رابطوں میں توسیع کے ذریعے علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
استنبول میں منعقدہ او آئی سی وزرائے ٹرانسپورٹ کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور روسی فیڈریشن کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ دیمتری اسٹینسلاوووچ زیوریف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست پروازوں کے آغاز سمیت دیگر عملی اقدامات بغیر کسی تاخیر کے شروع کیے جانے چاہئیں۔
روسی نائب وزیر ٹرانسپورٹ دیمتری اسٹینسلاوووچ زیوریف نے عبدالعلیم خان کو روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں یکم سے 3 اپریل 2026 تک منعقد ہونے والے انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس فورم’ میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ عبدالعلیم خان نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سڑکوں کے نیٹ ورک اور لاجسٹک کوریڈورز کی ترقی میں روس کے ساتھ تعاون کا خواہش مند ہے۔
دونوں فریقین نے پاکستانی مال بردار ٹرک ڈرائیورزکو درپیش ویزا اور اس سے متعلقہ دیگر مسائل حل کرنے کے لیے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینلز کی توسیع اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر مواصلات نے بیان دیا کہ پاکستان چین اور دیگر ممالک کے ذریعے زمینی کوریڈورز (راہداریاں) قائم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ذریعے روس کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ میں منعقدہ دوسری او آئی سی وزرائے ٹرانسپورٹ کانفرنس جیسے فورمز علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے قیمتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔ نائب وزیر ٹرانسپورٹ دیمتری اسٹینسلاوووچ زیوریف نے پاکستان کے ساتھ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے رابطوں کو بہتر بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس شعبے میں وسیع تر تعاون کے نمایاں امکانات کو اجاگر کیا۔
اسی دوران ایران کی وزیر برائے شاہراہ و انفرااسٹرکچر، فرزانہ صادق اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے درمیان ایک اور ملاقات ہوئی جس میں پاک-ایران سرحد پر تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ چیلنجز اور سہولیات کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ سرحد پار کرنے کی یومیہ صلاحیت کو 200 ٹرکوں سے بڑھا کر 800 سے 1,000 ٹریلرز تک کیا جاسکتا ہے۔ دونوں وزراء نے سرحدی پارکنگ کی سہولیات، دو طرفہ انتظامات اور متعلقہ اداروں، بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، وزارتِ تجارت اور کسٹمز حکام سے متعلقہ معاملات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
فرزانہ صادق نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ پاک-ایران سرحد پر حالات میں بہتری آئی ہے تاہم مزید ترقی کی گنجائش ابھی موجود ہے۔ عبدالعلیم خان نے گہرے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ہر پاکستانی ایران کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مخلصانہ خیر سگالی کے جذبات رکھتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments