نیویارک میں سکھ علیحدگی پسند کے خلاف مبینہ سازش: بھارتی شہری کا اعترافِ جرم
- بھارتی حکومت نے پنن کے خلاف کسی بھی سازش سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتی پالیسی کے منافی ہے
نیویارک شہر میں ایک سکھ علیحدگی پسند کو قتل کرنے کی ناکام، مبینہ طور پر بھارتی حکومت کی حمایت یافتہ سازش کے الزام میں نامزد ایک بھارتی شہری نے جمعہ کو تین فوجداری الزامات کا اعترافِ جرم کر لیا۔ یہ بات مین ہٹن میں امریکی اٹارنی کے دفتر کے ترجمان نے بتائی ہے۔
ترجمان کے مطابق 54 سالہ نکھل گپتا نے کرایہ کے لیے قتل، کرایہ کے لیے قتل کی سازش اور منی لانڈرنگ کی سازش کے الزامات تسلیم کیے ہیں، جن پر مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ 40 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
گپتا نے مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں امریکی مجسٹریٹ جج سارہ نیٹ برن کے روبرو اعترافِ جرم کیا ہے۔
گپتا کے وکلا فوری طور پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ گپتا جون 2024 میں جمہوریہ چیک سے امریکہ حوالگی کے بعد سے بروکلین میں قید ہے، جہاں اسے ایک سال قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ حوالگی کے فوراً بعد اس نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا۔
امریکی استغاثہ نے گپتا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ایک بھارتی سرکاری اہلکار کے ساتھ مل کر گرپتونت سنگھ پنن کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ پنن امریکہ میں مقیم اور امریکی کینیڈین دہری شہریت کے حامل ہیں اور شمالی بھارت میں ایک خودمختار سکھ ریاست کے قیام کے حامی رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے پنن کے خلاف کسی بھی سازش سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومتی پالیسی کے خلاف ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسندوں کے خلاف مبینہ قتل کی سازشوں کے انکشافات نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ کیا ہے، جبکہ بھارت نے ایسی کسی بھی کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔


Comments