پاک بھارت حالیہ تنازعے میں 10 تک طیارے گرائے گئے، ٹرمپ کا دعویٰ
- میں نے 8 جنگیں ختم کروائیں جن میں سے کم از کم 6 کا حل ٹیرف کے ذریعے نکالا، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی تصادم کے دوران 10 لڑاکا طیارے گرائے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے پچھلے اعداد و شمار کو دگنا کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ ان کی جانب سے ٹیرف (محصولات) کی دھمکیوں نے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے میں مدد دی۔
فاکس بزنس پر اپنی ٹیرف پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 8 جنگیں رکوائیں اور مزید کہا کہ کم از کم 6 جنگیں ٹیرف کی وجہ سے حل ہوئیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دوسرے لفظوں میں میں نے کہا کہ اگر آپ نے یہ جنگ ختم نہ کی تو میں آپ پر ٹیرف لگا دوں گا، کیونکہ میں لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ انہوں نے پوچھا کہ اس کا اس سے کیا لینا دینا؟ میں نے کہا کہ آپ پر جرمانہ (ٹیرف) عائد کیا جائے گا۔
مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسے بھارت اور پاکستان میری رائے میں یہ ایک ایٹمی جنگ ہو سکتی تھی۔ وہ ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے، دس طیارے گرائے گئے، وہ بھرپور لڑائی میں مصروف تھے۔
ٹرمپ نے یہ بھی یاد دلایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ امریکی صدر نے لڑائی رکوانے کے لیے مداخلت کر کے کم از کم ایک کروڑ جانیں بچائیں۔
انہوں نے مزید کہا کیونکہ میری رائے میں وہ ایٹمی جنگ کی طرف جا رہے تھے، ٹیرف کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا (کہ وہ رکتے)۔
اگرچہ ٹرمپ بارہا دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان امن قائم کرانے کا سہرا اپنے سر لیتے رہے ہیں اور پاکستان نے بھی اس کی تائید کی ہے لیکن بھارت نے دشمنی روکنے میں کسی بھی امریکی کردار کا عوامی سطح پر اعتراف نہیں کیا۔ اس کے برعکس پاکستانی حکومت نے کشیدگی کم کرنے میں ٹرمپ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔
تنازع کا پس منظر
گزشتہ سال مئی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے ایک مہلک حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان دہائیوں کا بدترین فوجی تصادم ہوا تھا۔ نئی دہلی نے الزام لگایا تھا کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسلام آباد نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔
یہ بحران سرحد پار حملوں اور فضائی جھڑپوں تک پھیل گیا جہاں پاکستان نے متعدد بھارتی لڑاکا طیاروں (بشمول تین رافیل طیارے) اور درجنوں ڈرونز گرانے کا دعویٰ کیا۔ کم از کم 87 گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد دونوں فریقین نے 10 مئی کو جنگ بندی پر اتفاق کیا جبکہ واشنگٹن نے کہا کہ اس نے اس صلح کو محفوظ بنانے میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔


Comments