BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.51%)
KSE100 Decreased By (-0.08%)
KSE30 Decreased By (-0.07%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.31 (0.55%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.53%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.97 Decreased By ▼ -1.48 (-0.77%)
FABL 94.40 Increased By ▲ 0.26 (0.28%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.90 Increased By ▲ 0.80 (0.26%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 92.98 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
OGDC 315.44 Decreased By ▼ -1.29 (-0.41%)
PAEL 35.45 Decreased By ▼ -0.18 (-0.51%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.60 Decreased By ▼ -3.31 (-1.46%)
PRL 92.40 Decreased By ▼ -0.62 (-0.67%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.38%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.72 Decreased By ▼ -0.25 (-1.93%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

گوہر اعجاز کی یورپی یونین کے سفیر سے جی ایس پی پلس کی تجدید پر بات چیت

  • پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت عالمی سطح پر سب سے زیادہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے والے مینوفیکچرنگ شعبوں میں شامل ہے، گوہر اعجاز
شائع اپ ڈیٹ

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن(اپٹما) کے پیٹرن انچیف ڈاکٹر گوہر اعجاز نے پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس سے ملاقات کا اہتمام کیا، جس میں پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی تجدید اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات کے مستقبل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت عالمی سطح پر سب سے زیادہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے والے مینوفیکچرنگ شعبوں میں شامل ہے، جہاں برآمد کنندگان محنت کشوں کے حقوق، کام کی جگہ پر تحفظ، ماحولیاتی تقاضوں، انسانی حقوق اور صنفی شمولیت سے متعلق بین الاقوامی معیارات پر سختی سے عمل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت مقررہ شرائط کو نہ صرف پورا کیا بلکہ کئی شعبوں میں ان سے بہتر کارکردگی بھی دکھائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جی ایس پی پلس نے پاکستان پر مثبت اور بامعنی اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کام کی بہتر صورتحال، محنت کشوں کے حقوق سے متعلق آگاہی اور عمل درآمد میں اضافہ، انسانی حقوق پر توجہ اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ڈاکٹر گوہر اعجاز کے مطابق پاکستان کی کاروباری برادری یورپی یونین کے مسلسل تعاون اور شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

تاہم انہوں نے کھلے دل سے اس امر کا اعتراف کیا کہ بطور ملک پاکستان کو ابھی مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری ذمہ داری لینے، حکومتِ پاکستان کے ساتھ تعمیری تعاون کرنے اور باقی ماندہ خامیوں کو دور کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ مکمل اور دیرپا مطابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے شفافیت، نیت اور مسلسل بہتری کو جی ایس پی پلس کی تجدید کے لیے پاکستان کے مؤقف کی ساکھ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کے باہمی فائدہ مند اور گہرے تعلق پر بھی زور دیا گیا۔ جہاں پاکستان یورپی منڈیوں کو ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرتا ہے، وہیں پاکستان کی درآمدات کا بڑا حصہ، خصوصاً جدید مشینری، ٹیکنالوجی اور صنعتی آلات، یورپی یونین کے رکن ممالک سے آتا ہے۔ یہ دوطرفہ تجارتی تعلق نہ صرف پاکستان بلکہ یورپ میں بھی روزگار، صنعتی ترقی اور معاشی نمو میں مدد کرتا ہے۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسلسل مکالمہ، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری پاکستان اور یورپی یونین کی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور جی ایس پی پلس کی کامیاب تجدید کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس ملاقات میں اپٹما پنجاب کے چیئرمین کامران ارشد، اپٹما نارتھ کے چیئرمین اسد شفیع، اپٹما پنجاب کے خزانچی محمد قاسم اور لاہور میں فرانس کے اعزازی قونصل حبیب انور بھی شریک تھے، جو پاکستان کی ٹیکسٹائل قیادت کی مضبوط اور متحد نمائندگی کا مظہر ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

Comments are closed.