BR100 Increased By (0.48%)
BR30 Increased By (0.68%)
KSE100 Increased By (0.25%)
KSE30 Increased By (0.22%)
BAFL 58.69 Increased By ▲ 0.25 (0.43%)
BIPL 25.35 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
BOP 34.22 Increased By ▲ 0.23 (0.68%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.93 Increased By ▲ 0.09 (0.43%)
DGKC 194.66 Increased By ▲ 1.69 (0.88%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
FCCL 53.31 Increased By ▲ 0.48 (0.91%)
FFL 18.01 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 286.21 Increased By ▲ 0.71 (0.25%)
HUBC 214.89 Increased By ▲ 0.51 (0.24%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.11 Increased By ▲ 0.09 (1.12%)
LOTCHEM 27.70 Decreased By ▼ -0.19 (-0.68%)
MLCF 87.10 Increased By ▲ 0.59 (0.68%)
OGDC 322.10 Increased By ▲ 2.14 (0.67%)
PAEL 39.73 Increased By ▲ 0.31 (0.79%)
PIBTL 16.95 Increased By ▲ 0.28 (1.68%)
PIOC 268.50 Increased By ▲ 2.44 (0.92%)
PPL 228.79 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.87 Increased By ▲ 0.27 (1.02%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.30 (3.62%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.50 Decreased By ▼ -0.21 (-0.3%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا

  • عدالت نے صوبائی حکومت کی اس کوشش کو غیر آئینی قرار دیا جس کے تحت سینئر پولیس افسران کی تقرری کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا
شائع February 8, 2026 اپ ڈیٹ February 8, 2026 09:37am

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ نے ہفتے کے روز خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے صوبائی حکومت کی اس کوشش کو غیر آئینی قرار دیا جس کے تحت سینئر پولیس افسران کی تقرری کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات پولیس فورس کو ایک سیاسی آلہ بنا سکتے ہیں۔

چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی جانب سے تحریر کردہ 28 صفحات پر مشتمل فیصلے میں بیرسٹر محمد یوسف خان کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر سیاسی اور عملی طور پر خودمختار پولیس فورس محض ایک ترجیح نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، جو بنیادی حقوق کے تحفظ، منصفانہ ٹرائل کی ضمانت اور قانون کے سامنے برابری کے اصول کے لیے ناگزیر ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سختی سے مسترد کیا جس کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا اختیار واپس لیا گیا تھا۔ فیصلے کے مطابق آئی جی کو نظرانداز کر کے وزیر اعلیٰ کو براہ راست تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار دینا پولیس فورس کے کمانڈ اسٹرکچر کو نقصان پہنچاتا ہے۔

بنچ نے واضح کیا کہ پولیس کمانڈ کے تسلسل اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے روزمرہ انتظامی معاملات، خصوصاً تبادلے اور تقرریاں، مکمل طور پر آئی جی پولیس کے دائرہ اختیار میں رہنی چاہئیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری پولیس چیف پر عائد ہوتی ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے جوابدہ ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ کا کردار انفرادی افسران کی تعیناتیوں میں مداخلت کے بجائے صرف وسیع پالیسی رہنمائی تک محدود ہونا چاہیے۔

پشاور ہائی کورٹ نے پالیسی نگرانی اور انتظامی مداخلت کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آئینی نظام کے تحت صوبائی حکومت کو پالیسی سمت دینے کا حق حاصل ہے، تاہم 2024 کی ترامیم نے پولیس کی آپریشنل خودمختاری کو عملاً ختم کر دیا تھا۔

Comments

200 حروف