بھارت میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز
- بھارت 75 کروڑ اسمارٹ فونز اور ایک ارب انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ایک قریبی اتحادی نے بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل پیش کردیا۔ میٹا (فیس بک/انسٹاگرام) اور یوٹیوب کیلئے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بننے والا ملک بھارت بھی اب نوجوانوں کی صحت اور حفاظت پر سوشل میڈیا کے اثرات سے متعلق عالمی بحث میں شامل ہوگیا ہے۔
قانون ساز ایل ایس کے دیورایالو نے جمعہ کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف یہ کہ ہمارے بچے سوشل میڈیا کے عادی ہوتے جارہے ہیں بلکہ بھارت غیر ملکی پلیٹ فارمز کے لیے ڈیٹا تیار کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کمپنیاں جدید ترین اے آئی نظام تیار کر رہی ہیں جس نے بھارتی صارفین کو حقیقت میں ایسے ڈیٹا فراہم کنندگان میں بدل دیا ہے جنہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا، جبکہ اس کے تزویراتی اور معاشی فوائد کہیں اور سمیٹے جا رہے ہیں۔
آسٹریلیا گزشتہ ماہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا جہاں اس رسائی کو روکنے کے اقدام کا بہت سے والدین اور بچوں کے حقوق کے علمبرداروں نے خیرمقدم کیا، تاہم بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادیِ اظہار کے حامیوں نے اس پر تنقید کی۔ فرانس کی نیشنل اسمبلی نے بھی اس ہفتے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قانون سازی کی حمایت کی ہے جبکہ برطانیہ، ڈنمارک اور یونان اس مسئلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
فیس بک چلانے والی کمپنی میٹا، یوٹیوب کی سرپرست کمپنی الفابیٹ اور ایکس نے ہفتے کو بھارتی قانون سازی پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میلز کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ والدین کی نگرانی سے متعلق قوانین کی حمایت کرتی ہے لیکن پابندیوں پر غور کرنے والی حکومتوں کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو غیر محفوظ اور غیر منظم سائٹس کی طرف نہ دھکیل دیں۔
بھارت کی وزارتِ آئی ٹی نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
بھارت جو 75 کروڑ اسمارٹ فونز اور ایک ارب انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے، سوشل میڈیا ایپس کے لیے ترقی کی ایک کلیدی منڈی ہے اور وہاں فی الوقت رسائی کے لیے عمر کی کوئی کم از کم حد مقرر نہیں ہے۔
دیورایالو کا 15 صفحات پر مشتمل سوشل میڈیا (عمر کی پابندی اور آن لائن تحفظ) بل جو ابھی عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا لیکن رائٹرز نے اسے دیکھا ہے، کہتا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کسی بھی فرد کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’بنانے، چلانے یا رکھنے‘ کی اجازت نہیں ہوگی اور جن کے پاس اکاؤنٹ پائے جائیں گے انہیں غیر فعال کر دیا جائے۔
دیورایالو نے کہا کہ ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ صارفین کی عمر کی تصدیق کو یقینی بنانے کی پوری ذمہ داری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد کی جائے۔


Comments