ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید اضافہ
- ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 279.80 روپے پر بند
انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 279.80 روپے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 279.81 روپے پر بند ہوئی تھی۔
عالمی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر کی صورتحال غیر مستحکم رہی کیونکہ امریکی معاشی پالیسیوں اور جغرافیائی سیاسی اقدامات کے حوالے سے بے یقینی کو وائٹ ہاؤس اور یورپی حکام کے حمایتی بیانات بھی صرف جزوی طور پر ہی سہارا دے سکے جو کرنسی کی قدر میں بڑی گراوٹ کے بعد سامنے آئے تھے۔
مانیٹری پالیسی کے محاذ پر فیڈرل ریزرو نے گزشتہ رات امریکی لیبر مارکیٹ اور مہنگائی کے خطرات کے حوالے سے زیادہ پرامید لہجہ اپنایا جس سے سرمایہ کاروں نے یہ مطلب لیا کہ شرحِ سود طویل عرصے تک برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ڈالر کی قدر تیزی سے گری اور یہ اس وقت چار سال کی کم ترین سطح پر آگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرنسی کی کمزوری کو بظاہر نظر انداز کر دیا، تاہم جب ایک دن بعد ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے یہ واضح کیا کہ واشنگٹن مضبوط ڈالر کی پالیسی رکھتا ہے تو ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت کو سہارا مل گیا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ڈالر کی فروخت گزشتہ اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات (ٹیرف) کی یلغار کے بعد سب سے شدید تھی، جس نے مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
رواں سال کے دوران پہلے ہی 2 فیصد گراوٹ کا شکار ڈالر کی اس کمزوری کی بڑی وجہ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسی سازی، فیڈرل ریزرو پر تنقید اور اس کے نتیجے میں شرحِ سود کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات ہیں۔ مزید برآں، حال ہی میں جمعہ کو ملنے والے ان اشاروں نے بھی اثر ڈالا ہے کہ امریکہ، جاپان کی کرنسی ’ین‘ کی قدر بڑھانے میں مدد کے لیے ڈالر فروخت کرنے پر آمادہ ہے۔“
“دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر 96.24 کی سطح پر رہا، جو منگل کو ریکارڈ کی گئی چار سال کی کم ترین سطح 95.566 کے قریب ہی منجمد ہے۔


Comments