BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.75 Increased By ▲ 2.78 (1.44%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.58 Increased By ▲ 0.75 (1.42%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.05 Increased By ▲ 1.55 (0.54%)
HUBC 215.70 Increased By ▲ 1.32 (0.62%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.60 Increased By ▲ 1.09 (1.26%)
OGDC 322.65 Increased By ▲ 2.69 (0.84%)
PAEL 40.05 Increased By ▲ 0.63 (1.6%)
PIBTL 17.06 Increased By ▲ 0.39 (2.34%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 6.94 (2.61%)
PPL 229.69 Increased By ▲ 1.51 (0.66%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.45 Increased By ▲ 0.27 (0.27%)
SSGC 26.91 Increased By ▲ 0.31 (1.17%)
TELE 8.68 Increased By ▲ 0.40 (4.83%)
TPLP 8.73 Increased By ▲ 0.51 (6.2%)
TRG 70.14 Increased By ▲ 0.43 (0.62%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

بھارت۔یورپی یونین تجارتی معاہدہ پاکستان کو مسابقتی نقصان میں دھکیل دے گا، پی ایچ ایم اے

  • ماضی میں بھی پاکستانی برآمدات کو اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، فیصل ارشد شیخ
شائع January 29, 2026 اپ ڈیٹ January 29, 2026 10:04am

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین (ساؤتھ) فیصل ارشد شیخ نے مجوزہ بھارت۔یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کو شدید مسابقتی نقصان پہنچا سکتا ہے، حالانکہ پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہے۔

انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور یورپی منڈی میں پاکستانی برآمدات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

فیصل ارشد شیخ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت یورپی یونین میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے، جو بظاہر بھارت کو مجوزہ ایف ٹی اے کے تحت ملنے والی سہولت جیسی ہے، لیکن مسابقتی ماحول یکساں نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی جی ایس پی پلس رسائی مشروط ہے، جس کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز پر دستخط، ان پر عملدرآمد اور مسلسل رپورٹنگ لازم ہے، جن کا تعلق انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، ماحولیات اور طرز حکمرانی سے ہے۔ اس کے برعکس بھارت کو ایف ٹی اے کے تحت اسی نوعیت کی سخت شرائط کا سامنا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان کنونشنز پر عملدرآمد طویل المدتی فوائد کا حامل ضرور ہے، لیکن اس سے پاکستانی برآمد کنندگان پر اضافی انتظامی، عملی اور مالی بوجھ پڑتا ہے، جس کے باعث صرف ٹیرف میں برابری مسابقت کو یقینی نہیں بنا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ لاگت کی مسابقت ہے۔ پاکستان میں پیداواری لاگت خطے میں پہلے ہی زیادہ ہے، جبکہ بھارت میں توانائی سستی، فنانسنگ لاگت کم، بڑے پیمانے پر پیداوار، مربوط سپلائی چینز اور بہتر لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی بدولت پیداواری اخراجات نمایاں طور پر کم ہیں۔ اس صورتحال میں بھارتی برآمد کنندگان یورپی منڈی میں زیادہ مسابقتی قیمتیں پیش کر سکتے ہیں۔

فیصل شیخ نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستانی برآمدات کو اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، خصوصاً جب امریکا نے اضافی ٹیرف عائد کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کی بارہا تنبیہات کے باوجود پیداواری لاگت کم کرنے یا بنیادی مسابقتی مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث برآمد کنندگان ٹیرف کے جھٹکوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت۔یورپی یونین ایف ٹی اے اس سے بھی بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے اور اگر ماضی کی طرح غفلت برتی گئی تو پاکستان کی تجارت اور صنعت کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ فیصل ارشد شیخ نے کہا کہ پی ایچ ایم اے مسلسل اعلیٰ پالیسی سطح پر یہ خدشات اجاگر کرتی رہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف