ایران میں انٹرنیٹ بندش سے کاروبار شدید متاثر
- اس پابندی نے پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے
ایران کے کاروباری شعبے دو ہفتوں سے جاری انٹرنیٹ بندش سے شدید متاثر ہیں، جو حکومت کی جانب سے بڑے مظاہروں کو کچلنے کے لیے استعمال شدہ طاقت کے بعد عائد کی گئی۔ اس پابندی نے پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
تہران نے 8 جنوری سے انٹرنیٹ تک رسائی روک دی، جب ملک بھر میں حکومت مخالف احتجاج پھیل گئے اور 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد سب سے خونی کریک ڈاؤن ہوا۔ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ کب عالمی ویب سے دوبارہ کنیکٹیویٹی بحال ہوگی۔
امریکی حقوق گروپ ایچ آر اے این اے کے مطابق احتجاج سے متعلق تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 5,848 ہے، جن میں 209 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 3,117 افراد ہلاک ہوئے۔
ایران کے داخلی نیٹ ورک نے آہستہ آہستہ محدود رسائی بحال کی، جیسے حکومتی ویب سائٹس اور اسکولوں کے انٹرانیٹس، مگر زیادہ تر کاروبار کے لیے ضروری عالمی انٹرنیٹ کنکشن اب بھی معطل ہے۔
کاروباری نمائندوں اور بعض حکومتی اہلکاروں نے اس پابندی پر شدید تنقید کی۔ ایران-روس جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے جلیل جلالی فر نے کہا کہ معاشی شعبے بہت غصے میں ہیں، تاجروں کو بیرونی دنیا سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے فوری حل درکار ہیں۔
ایران-چین چیمبر آف کامرس کے مجید رضا حریری نے محدود انٹرنیٹ رسائی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ صرف چند ای میلز چیک کرنے کے لیے کافی ہے۔
اگرچہ احتجاج کے بعد سڑکوں پر سکون واپس آگیا ہے، مگر ڈیجیٹل تعلطل کے ختم ہونے کی غیر یقینی صورتحال نے کاروباری مالکان میں مایوسی بڑھا دی ہے۔
کچھ حکومتی ذرائع نے انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کی خبریں دیں، لیکن حکام نے ان کی تردید کی۔ کچھ قانون سازوں نے پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ عالمی کنٹرول کا امریکی آلہ رہا ہے۔


Comments