وزیرِ اعلیٰ سندھ کا گل پلازا کی بحالی، متاثرین کو معاوضہ اور قرضے دینے کا اعلان
- کچھ کوتاہیاں اور غفلتیں ہوئی ہیں، جنہیں دور کیا جائے گا، مرادعلی شاہ کا سندھ اسمبلی میں اعتراف اور یقین دہانی
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے جمعہ کے روز سانحہ گل پلازا کے متاثرین کے لیے ریلیف، معاوضہ اور تعمیر نو کے پیکیج کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس ہلاکت خیز واقعے کے دوران غفلت و کوتاہی کو تسلیم کرتے ہوئے رسمی تحقیقات کے ذریعے جواب دہی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے سندھ اسمبلی کے فلور سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ کچھ کوتاہیاں اور غفلتیں ہوئی ہیں، جنہیں دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر عملی اقدامات جامع تحقیقات میں سامنے آئیں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ المناک واقعے کے پہلے دن ہی جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کا اعلان کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی رقم کسی انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، لیکن فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں، اور کمشنر کو ہدایت کی گئی ہے کہ تصدیق مکمل کریں اور قانونی ورثاء کو بلا تاخیر ادائیگیاں کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور معاوضے کی ادائیگی کی نگرانی کے لیے تاجروں کی ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ فوری ریلیف کے طور پر ہر دکاندار کو اپنا روزگار دوبارہ شروع کرنے میں مدد کے لیے 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
کاروبار کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ دو متبادل تجارتی عمارتیں شناخت کی گئی ہیں، جن میں مجموعی طور پر 850 دکانیں موجود ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ مالکان نے ایک سال کے لیے کرایہ معاف کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ صوبائی حکومت دو ماہ کے اندر دکانیں الاٹ کرے گی اور انہیں دو سال تک کرایہ سے مستثنیٰ رکھنے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ لمیٹڈ کے ذریعے ایک بڑے مالی معاونتی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر متاثرہ دکاندار 1 کروڑ روپے تک کے قرض کے اہل ہوں گے۔ سندھ حکومت ضمانت کار کے طور پر کام کرے گی اور سود کا بوجھ برداشت کرے گی۔
مراد علی شاہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ گل پلازا کو مسمار کر کے دو سال کے اندر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ تعمیر شدہ عمارت میں پہلے کی طرح دکانوں کی تعداد ہوگی اور اضافی تجارتی یونٹس شامل نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آگ کے اسباب اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور زور دیا کہ نتائج حتمی ہونے کے بعد جواب دہی عمل میں لائی جائے گی۔


Comments