BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.25%)
KSE100 Increased By (0.63%)
KSE30 Increased By (0.69%)
BAFL 58.68 Increased By ▲ 0.24 (0.41%)
BIPL 25.49 Increased By ▲ 0.29 (1.15%)
BOP 34.46 Increased By ▲ 0.47 (1.38%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.14 (0.67%)
DGKC 196.16 Increased By ▲ 3.19 (1.65%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 53.36 Increased By ▲ 0.53 (1%)
FFL 18.14 Increased By ▲ 0.19 (1.06%)
GGL 19.10 Increased By ▲ 0.13 (0.69%)
HBL 288.34 Increased By ▲ 2.84 (0.99%)
HUBC 215.65 Increased By ▲ 1.27 (0.59%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.16 (0.57%)
MLCF 87.50 Increased By ▲ 0.99 (1.14%)
OGDC 322.75 Increased By ▲ 2.79 (0.87%)
PAEL 40.20 Increased By ▲ 0.78 (1.98%)
PIBTL 17.17 Increased By ▲ 0.50 (3%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 6.94 (2.61%)
PPL 230.15 Increased By ▲ 1.97 (0.86%)
PRL 34.86 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.40 (1.5%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.43 (5.19%)
TPLP 8.69 Increased By ▲ 0.47 (5.72%)
TRG 70.05 Increased By ▲ 0.34 (0.49%)
UNITY 11.73 Increased By ▲ 0.06 (0.51%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

چین کی مہارت سے استفادہ کر کے پاکستان ترقی کی رفتار تیز کر سکتا ہے، وزیراعظم

  • پاکستانی معیشت استحکام سے پائیدار ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، شہباز شریف
شائع January 19, 2026 اپ ڈیٹ January 19, 2026 10:07pm

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہے کہ پاکستان چین کے تجربے، ٹیکنالوجی اور مہارت سے استفادہ کر کے معاشی ترقی کی رفتار تیز کر سکتا ہے، بالخصوص زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں۔

پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین کی تیز رفتار ترقی پاکستان کے لیے قیمتی اسباق فراہم کرتی ہے، اور چینی مہارت اور تکنیکی صلاحیتوں کے مؤثر استعمال سے پاکستان وہ اہداف چند ماہ میں حاصل کر سکتا ہے جو بصورت دیگر برسوں میں ممکن ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے نکل کر پائیدار ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا ثبوت مہنگائی میں کمی، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں بہتری اور مجموعی میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری ہے۔

زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے جدید کاشتکاری طریقوں، پانی کے مؤثر انتظام، ویلیو چینز، کولڈ اسٹوریج اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین جدید زرعی ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کر رہا ہے، جو پاکستان کی زرعی معیشت میں انقلابی تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2024 اور 2025 کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان دستخط کیے گئے متعدد بزنس ٹو بزنس ( بی ٹو بی ) اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی ) مفاہمتی یادداشتوں کو اب عملی تجارتی معاہدوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

انسانی وسائل کی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چینی جامعات اور تحقیقی اداروں میں تربیت دی جا چکی ہے، جو وطن واپسی پر کسانوں کی معاونت کریں گے اور پیداوار اور زرعی آمدن میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک 2.0 کو عملی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے گہرے معاشی تعاون اور طویل المدتی ترقی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین اس سال سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، جو آزمودہ اور مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کو ایک اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو زراعت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت میں جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے تاکہ معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ گزشتہ سال جی ڈی پی نمو 3 فیصد سے تجاوز کر گئی، جبکہ مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں یہ 3.71 فیصد تک پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کم ہو کر تقریباً 4 فیصد پر آ گئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ 2.1 ارب ڈالر کے سرپلس میں رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو معاشی استحکام میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

چینی سفیر نے کہا کہ چین اپنے آئندہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت تعاون کو مزید وسعت دے گا اور زرعی شعبے میں تعاون کو ترجیح دی جائے گی، جس کے تحت دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز میں اشتراک کو فروغ دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

Comments

200 حروف