وزارتِ خزانہ کا 2 ارب ڈالر کے مقامی قرضوں کو ٹوکنائز کرنے کا منصوبہ
- کرپٹو اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مخصوص فریم ورک پر کام جاری ، مگر پاکستان اس شعبے میں ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مشیر وفاقی وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے لاہور میں آئی ٹی سی این ایشیا سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت میں حکومتی سہولت کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے سازگار ماحول کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایسی پالیسیاں مرتب کر رہی ہے جو نوجوانوں کو جدید مالیاتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں بااختیار بنا سکیں۔
عالمی سطح پر بٹ کوائن کی محدود سپلائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ڈیجیٹل اثاثوں کو موجودہ دور کے مالیاتی نظام کا اہم حصہ قرار دیا۔خرم شہزاد نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں کرپٹو مائننگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ نے پہلے مرحلے میں 2 ارب ڈالر کے مقامی قرضوں کو ٹوکنائز کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ،تاکہ عام سرمایہ کاروں کی رسائی ممکن ہو سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپٹو اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مخصوص فریم ورک پر کام جاری ہے، تاہم پاکستان اس شعبے میں ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات کے کامیاب ماڈل کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان احتیاط اور عالمی تجربات سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
نشست کا اختتام اس نتیجے پر ہوا کہ متوازن پالیسی سازی اور عالمی بہترین طریقوں کو اپنا کر ہی پاکستان ڈیجیٹل اور ریاستی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن سے ذمہ دارانہ طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.