سی سی پی نے ٹویوٹا کی سرپرستی میں ہینو اور مٹسوبشی فسّو کے آپریشنز کے انضمام کی منظوری دے دی
- یہ معاہدے مجموعی طور پر ایک مربوط انضمامی اصلاح کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کا مقصد ہینو اور ایم ایف ٹی بی سی کے تجارتی گاڑیوں کے آپریشنز کو مشترکہ طور پر منظم کرنا ہے
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے دو مربوط انضمامی معاہدوں کی منظوری دے دی ہے، جو ٹویوٹا موٹر کارپوریشن، ڈائملر ٹرک AG، ہینو موٹرز لمیٹڈ اور مٹسوبشی فسّو ٹرک اینڈ بس کارپوریشن ( ایم ایف ٹی بی سی) کے عالمی سطح پر جاری وسیع انضمامی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ یہ بات جمعرات کو ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی ہے۔
سی سی پی کے مطابق یہ معاہدے مجموعی طور پر ایک مربوط اصلاحی عمل کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کا مقصد ہینو اور ایم ایف ٹی بی سی کے تجارتی گاڑیوں کے آپریشنز کو ایک نئے ہولڈنگ ڈھانچے کے تحت مشترکہ طور پر منظم اور مربوط کرنا ہے۔
اس انتظام کے تحت ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے اپنی ذیلی کمپنی ہینو موٹرز لمیٹڈ کے ذریعے مٹسوبشی فسّو ٹرک اینڈ بس کارپوریشن کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ساتھ ہی ڈائملر ٹرک اے جی نے نئی قائم شدہ ہولڈنگ کمپنی اے آئی بی لمیٹڈ میں حصہ لیا ہے، جس کے ذریعے ہینو اور ایم ایف ٹی بی سی دونوں کو مشترکہ طور پر ملکیت اور انتظام فراہم کیا جائے گا۔
کمیشن نے دونوں معاہدوں کا جائزہ پاکستان میں مقابلے پر ان کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں لیا، خاص طور پر بسوں اور ٹرکوں کی تیاری اور تقسیم کے شعبے میں۔
اگرچہ ہینو اورایم ایف ٹی بی سی کے تجارتی گاڑیوں کے آپریشنز میں کچھ ہم آہنگی پائی گئی، مگر سی سی پی نے نتیجہ نکالا کہ یہ اصلاحی عمل متعلقہ منڈیوں میں کسی غالب پوزیشن کے قیام یا مضبوط ہونے کا سبب نہیں بنتا۔
کمیشن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پاکستان کا تجارتی گاڑیوں کا شعبہ اب بھی مقابلہ جاتی ہے، اور مارکیٹ میں کئی مستحکم کھلاڑی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ڈائملر ٹرک اے جی کی ہولڈنگ کمپنی میں شراکت کے جائزے میں سی سی پی نے مشاہدہ کیا کہ ڈائملر ٹرک اے جی اب پاکستان میں کسی بھی آزاد تجارتی گاڑیوں کے آپریشنز کا مالک نہیں رہا۔
اس کا واحد متعلقہ اثاثہ، یعنی ایم ایف ٹی بی سی، اصلاحی عمل کے حصہ کے طور پر پہلے ہی ٹویوٹا نے حاصل کر لیا تھا۔ اس لیے یہ معاہدہ مقابلے کے لحاظ سے غیر جانبدار قرار دیا گیا، اور پاکستان کی مارکیٹ میں اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔
اپنے جائزے کی بنیاد پر، سی سی پی نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دونوں مربوط معاہدے، جب انہیں ایک ہی عالمی اصلاحی عمل کے حصہ کے طور پر دیکھا جائے، تو کسی بھی قسم کے مقابلے کے خدشات پیدا نہیں کرتے۔ دونوں معاہدے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 اور کمپیٹیشن مرجر کنٹرول ریگولیشن 2016 کے تحت منظور کئے گئے ہیں ۔


Comments