پانی کی حفاظت اب قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ، احسن اقبال
- پانی کی بڑھتی ہوئی قلت زراعت، روزگار، غذائی تحفظ اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے ، فاقی وزیر کی تنبیہ
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے پانی کی حفاظت (واٹر سیکیورٹی) اب قومی سلامتی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے سنگین چیلنج بن کر ابھری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک اب بحران کے بعد محض ہنگامی اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وہ نیشنل واٹر سیکیورٹی ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جو موسمیاتی تبدیلیوں، بالائی علاقوں کی حساسیت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بلایا گیا تھا۔
سرکاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی اب محض ایک وسیلے کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ اب قومی سلامتی، خوراک کے تحفظ اور معاشی استحکام کا مسئلہ بن چکا ہے۔
چیلنج کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے پانی کا تقریباً 80 فیصد حصہ دریاؤں سے آتا ہے، جس کی وجہ سے ملک بالائی بہاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ہندوکش اور ہمالیہ کے خطے میں گلیشیئرز تشویشناک رفتار سے پگھل رہے ہیں اور 1960 سے اب تک تقریباً 23 فیصد گلیشیائی برف ختم ہو چکی ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے خبردار کیا کہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت زراعت، معیشت، لوگوں کے روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستان کی مجموعی ترقی کے تناظر میں 2047 یا 2050 تک کا ایک طویل مدتی ’نیشنل واٹر سیکیورٹی ماسٹر پلان‘ مرتب کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پانی اور خوراک کے تحفظ کو حکومت کے 5-ایز فریم ورک اور قومی ترجیحات میں مکمل طور پر شامل کیا جائے۔
احسن اقبال نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے تزویراتی آبی ذخائر کے منصوبوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہیں ملکی استحکام کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے واپڈا، ارسا ، نیشنل فلڈ کمیشن، صوبائی حکومتوں، ماہرینِ تعلیم اور نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ بنانے کا حکم بھی دیا۔ اس گروپ کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ایک واضح روڈ میپ کے ساتھ عملی اور وقت کے پابند حل پیش کرے۔
اجلاس کے دوران پروفیسر احسن اقبال نے بھارت کی جانب سے پانی کے انتظام کے طریقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی تیزی سے ”پانی کو بطور ہتھیار“ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پانی کے بہاؤ کو اس طرح کنٹرول کرتا ہے جس سے مصنوعی بحران پیدا ہوتے ہیں یعنی ضرورت کے وقت پانی روک لیا جاتا ہے اور مون سون کے سیلاب کے دوران اچانک پانی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے پاکستان کے لیے موسمیاتی آفات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور قومی غذائی تحفظ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی معیشت اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔
انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ پاکستان کو بحران کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے اب پیشگی منصوبہ بندی کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ یہ صرف پانی کے انتظام کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا سوال ہے۔


Comments