BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.76 (1.34%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.95 Increased By ▲ 0.27 (0.8%)
CNERGY 10.63 Increased By ▲ 0.82 (8.36%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 209.50 Increased By ▲ 1.63 (0.78%)
FABL 99.50 Increased By ▲ 0.60 (0.61%)
FCCL 53.75 Increased By ▲ 0.23 (0.43%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.18 (-1.08%)
GGL 23.84 Increased By ▲ 0.27 (1.15%)
HBL 302.16 Decreased By ▼ -2.23 (-0.73%)
HUBC 219.25 Increased By ▲ 1.14 (0.52%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.14 (-1.31%)
KEL 7.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.68%)
LOTCHEM 29.87 Increased By ▲ 0.76 (2.61%)
MLCF 96.30 Increased By ▲ 0.80 (0.84%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 0.05 (0.02%)
PAEL 41.90 Increased By ▲ 0.07 (0.17%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
PIOC 297.01 Increased By ▲ 17.00 (6.07%)
PPL 220.44 Increased By ▲ 0.70 (0.32%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.26 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
TELE 8.89 Increased By ▲ 0.13 (1.48%)
TPLP 12.56 Increased By ▲ 0.46 (3.8%)
TRG 60.26 Increased By ▲ 0.23 (0.38%)
UNITY 10.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.3%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں مزید بہتری

  • ڈالر کے مقابلے روپیہ 4 پیسے کی بہتری سے 280.12 روپے پر بند
شائع اپ ڈیٹ

انٹربینک مارکیٹ میں سال کے آخری کاروباری سیشن کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 4 پیسے کی بہتری سے 280.12 روپے پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 280.16 پر بند ہوئی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے ستمبر 2025 میں انٹر بینک مارکیٹ سے ایک ارب ڈالر مالیت کے بھاری غیر ملکی زرِ مبادلہ کی خریداری کی، جو بیرونی رقوم کی آمد میں بہتری کے درمیان مارکیٹ میں اس کی مداخلت میں نمایاں اضافے کا اشارہ ہے۔

تازہ ترین خریداری کے بعد گزشتہ ایک سال (اکتوبر 2024 سے ستمبر 2025 تک) کے دوران اسٹیٹ بینک کی مارکیٹ سے مجموعی خریداری 6.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کیلئے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر کی قدر مستحکم رہی، تاہم یہ 2017 کے بعد اپنی سب سے بڑی سالانہ گراوٹ کی جانب گامزن تھا۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں شرحِ سود میں کٹوتیاں، مالیاتی خدشات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں غیر یقینی تجارتی پالیسیاں شامل ہیں، جنہوں نے 2025 کے دوران کرنسی مارکیٹوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔

ان خدشات میں سے بہت سے 2026 میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے، جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ڈالر کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ طویل ہو سکتا ہے اور اس کی حریف کرنسیوں بشمول یورو اور پاؤنڈ کے رویے کو تقویت دے سکتا ہے، جنہوں نے اس سال نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ڈالر کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، ٹرمپ انتظامیہ کے تحت فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کی خود مختاری سے متعلق خدشات بدستور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

یورو 1.1747 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ پاؤنڈ سال کے آخری کاروباری دن پر 1.3463 ڈالر میں خریدا گیا۔

دونوں کرنسیاں آٹھ سال کی سب سے بڑی سالانہ بڑھوتری کے لیے تیار ہیں۔

Comments

Comments are closed.