2026 کے لیے قیادت کے لازمی تقاضے
- رہنما بہترین حکمتِ عملیاں وضع کرتے ہیں، مگر تیار کی گئی 80 فیصد حکمتِ عملیاں عمل درآمد کے مرحلے میں ضائع ہو جاتی ہیں
2025 قیادت کے بے نقاب ہونے کا سال ثابت ہوا۔ یہ انکشافات کا سال تھا۔ ایک آزمائشی سال۔ دباؤ اور ذہنی تھکن (برن آؤٹ) کا سال۔
یہ ایک نہایت بھاری سال تھا۔ واقعی یہ ایک کٹھن سال رہا۔ کہا جاتا ہے کہ مشکل اوقات میں قیادت کی اصل صلاحیت سامنے آتی ہے۔
بدقسمتی سے، دنیا بھر میں متعدد مواقع پر قیادت معیار پر پوری اترتی نظر نہیں آئی۔ کئی نمایاں اور نامور شخصیات داغ دار ہوئے۔
کئی مستحکم سمجھے جانے والے نام اقتدار سے محروم ہو گئے۔ کارپوریٹ حلقوں میں اسکینڈلز اور خفیہ کہانیاں منظرِ عام پر آئیں۔ جو رہنما مضبوط دکھائی دیتے تھے وہ بھی کمزور معیشت اور بے رحم بورڈ رومز کے دباؤ کا شکار رہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں حوصلے پست ہوئے، پیداوار میں کمی آئی اور نتائج یا تو مصنوعی تھے یا مایوس کن۔
قیادت سے متعلق کوچنگ کے دوران متعدد رہنماؤں نے ’’غیر حقیقی توقعات‘‘، ’’ناموافق حالات‘‘ اور ملازمین کو متحرک رکھنے کی ’’مسلسل جدوجہد‘‘ کی شکایات کیں۔
اعداد و شمار خود کہانی بیان کرتے ہیں۔ ایگزیک میگزین میں 18 دسمبر 2025 کو شائع ہونے والے لیڈرشپ ڈیولپمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق قیادت کی خلا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 77 فیصد اداروں میں مؤثر قیادت کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ یہ قیادت کی کمی تمام سطحوں پر پائی جاتی ہے، جس میں فرنٹ لائن مینیجرز سے لے کر اعلیٰ انتظامیہ تک شامل ہیں۔ یہ خلا مختلف شعبوں میں کاروباری لچک اور جانشینی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہا ہے۔
قابل اور باصلاحیت سینئر قیادت کے بغیر ادارے خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے اور مسابقت برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ صرف دو برسوں میں (2022 تا 2024) مینیجرز پر اعتماد 46 فیصد سے گھٹ کر 29 فیصد رہ گیا۔ 71 فیصد ملینیئلز خبردار کر رہے ہیں کہ اگر قیادت کی ترقی پر توجہ نہ دی گئی تو وہ آئندہ تین برسوں میں ادارے چھوڑ دیں گے۔ جنریشن زی کے 53 فیصد ملازمین اپنی قیادت سے ناخوش ہیں۔ یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ یہ خطرے کی گھنٹی ہیں۔ یہ قیادت میں موجود دراڑوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ اس خلا کی نشاندہی کرتے ہیں جو 2025 میں کیے جانے والے اقدامات اور اصل ضرورت کے درمیان موجود رہا۔ جن کی قیادت کی جا رہی ہے وہ بھی قیادت کے انداز سے ناخوش ہیں، اور جو قیادت کر رہے ہیں وہ بھی شدید دباؤ میں ہیں۔ 71 فیصد رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قیادت سنبھالنے کے بعد ان کے دباؤ کی سطح نمایاں طور پر بڑھ گئی، جبکہ 63 فیصد برن آؤٹ (ذہنی تھکن) کا شکار ہونے کی رپورٹ کرتے ہیں۔
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2026 میں مزید تنظیمی بحران سامنے آ سکتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ 2025 سے سبق سیکھا جائے اور 2026 میں داخل ہوتے ہوئے قیادت کے تصور پر ازسرِنو غور کیا جائے۔
اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربے کی بنیاد پر، اداروں اور قائدین کو قیادت کے چار بنیادی تقاضوں پر توجہ دینا ہوگی:
قیادتی تقاضا نمبر 1: ذہنی زاویۂ نگاہ کی ازسرِنو تشکیل -” جب ذہن اندھا ہو تو آنکھیں بے کار ہو جاتی ہیں۔“
2025 میں قیادت کی سوچ صرف واضح حقائق تک محدود رہی: کمزور معیشتیں، دباؤ کا شکار صنعتیں اور کمپنیوں کی جانب سے چھانٹیاں۔
کیا ان حقائق کو نظرانداز کیا جا سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ یہ ایسی حقیقتیں تھیں جنہیں مدنظر رکھنا ناگزیر تھا۔
کیا ان حالات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی مختلف ہو سکتی تھی؟
یقیناً ہو سکتی تھی، مگر اس کے لیے ذہنیت مختلف ہونی چاہیے تھی۔
2026 میں داخل ہوتے ہوئے رہنما کے ذہن کو خلا کو مواقع کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ جب سوچ صرف گرتے ہوئے اعداد و شمار پر مرکوز ہو تو منطقی حل بھی صرف اعداد درست کرنے تک محدود رہتا ہے، جس کا نتیجہ اخراجات میں کٹوتی، ملازمین کی برطرفی اور اداروں کی بندش کی صورت میں نکلتا ہے۔
اگرچہ یہ تمام حکمتِ عملیاں کمپنی کی مالی صحت میں فوری بہتری لاتی ہیں، تاہم یہ حقیقی اور پائیدار ترقی کی ضامن نہیں ہوتیں۔ رہنما کو یہ کہنا ہوگا: ’’ٹھیک ہے، اگر یہ مصنوعات یا منڈیاں بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہیں تو ہم مصنوعات کی چھانٹی کر سکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم ایسا اور کیا کر سکتے ہیں جو ترقی کو مہمیز دے؟‘‘ اپنی ٹیموں کو اکٹھا کریں۔ ان سے سادہ سا سوال کریں: اگر ہم ایسے وقت میں ترقی کرنا چاہتے ہیں جب دیگر ادارے سکڑ رہے ہوں، تو آپ کے خیال میں کیا کارگر ہوگا؟
دواسازی کی صنعت میں جب متعدد ادویات مارکیٹ سے باہر ہو رہی تھیں، ایک فارماسیوٹیکل کمپنی نے غیر معمولی نتائج حاصل کیے۔ اس نے ٹیم سے خلا کی نشاندہی کروائی اور سوشل میڈیا پر موٹاپے اور ذیابیطس سے متعلق آگاہی پر توجہ مرکوز کی۔
نئی ذیابیطس اور موٹاپے کی ادویات کی غیر معمولی طلب کے باعث اس کمپنی کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں وہ دنیا کی سب سے قیمتی ہیلتھ کیئر کمپنی بن گئی۔
قیادتی تقاضا نمبر 2: مقصد کے ساتھ ازسرِنو ہم آہنگی -” جب آپ اپنے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں تو پوری کائنات آپ کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔“
حال ہی میں ایک بڑی کمپنی میں کام کرنے والے جنریشن زی کے ایک ملازم نے مجھ سے کہا: ’’مقصد؟ کون سا مقصد؟ ہمیں تو صرف یہی معلوم ہے کہ ادارے اضافی منافع کے لیے ہمیں نچوڑ کر رکھ دیں گے۔‘‘
یہ وہ پہلو ہے جہاں اکثر رہنما ناکام ہو جاتے ہیں: سب سے پہلے خود کو ادارے کے مقصد سے جوڑنا اور پھر دوسروں کو اس سے ہم آہنگ کرنا۔ مقصد یا مشن محض ویب سائٹس کے لیے لکھی گئی ایک عبارت بن کر رہ جاتا ہے۔
کوئی اسے یاد نہیں رکھتا، چہ جائیکہ اس سے تحریک حاصل کی جائے یا اس کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ ڈی ڈی آئی کی 2025 کی لیڈرشپ اسٹڈی کے مطابق فرنٹ لائن رہنماؤں میں 2020 کے مقابلے میں مقصد کے احساس میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی۔
رہنما اعلیٰ مقصد کی طاقت کو کم تر سمجھتے ہیں جو لوگوں کو متحرک رکھ سکتی ہے۔ اگر آپ لوگوں سے کہیں کہ 25 فیصد زیادہ ہدف حاصل کریں تو وہ دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کہیں کہ آئیے نئی کارڈیو ڈیوائس کے ذریعے 25 فیصد زیادہ جانیں بچانے کو یقینی بنائیں، تو وہ کسی بڑے مقصد میں حصہ ڈالنے پر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔ 2026 کو قیادت میں مقصد کی ترسیل کا سال ہونا چاہیے۔ ڈی ڈی آئی کی تحقیق کے مطابق اگر کارکن یہ محسوس کریں کہ وہ کسی اعلیٰ مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں تو ان میں اپنے کام سے توانائی حاصل کرنے کا امکان 17 گنا بڑھ جاتا ہے۔
قیادتی تقاضا نمبر 3: انسانی دائرے سے دوبارہ ربط
جی ہاں، یہ مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ جی ہاں، یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ مگر مصنوعی ذہانت کے تعاقب میں انسانی ذہانت کو نظرانداز نہ کریں۔ 2025 کو تاریخ کے سب سے زیادہ غیر منسلک افرادی قوت کے برسوں میں شمار کیا گیا۔ ملازمین کی بے دلی اور عدم وابستگی بحران کی سطح تک پہنچ گئی۔
گیلپ کی ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق کام سے وابستگی گزشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے، جہاں صرف 24 سے 31 فیصد ملازمین اپنے کام میں مختلف درجوں کی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔ رہنما اس قدر مصروف، الجھے ہوئے اور منتشر ہیں کہ اپنے لوگوں کو معیاری وقت دینا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
تقریباً 70 فیصد ملازمین اپنے کام سے بےزاری محسوس کرتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ فی ملازم پیداوار ان کی صلاحیت کے نصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور مہنگائی میں اضافے کے باعث آج کا ملازم خود کو ایسے رہنماؤں کے ہاتھوں نظرانداز شدہ محسوس کرتا ہے جو خاموش استعفے (کوائٹ کوئٹنگ) کے بڑھتے رجحان کو دیکھنے کے بجائے صرف زیادہ اعداد و شمار کے دباؤ میں مصروف ہیں۔
لوگ موجود تو ہیں، مگر حقیقت میں موجود نہیں۔ حتیٰ کہ محض نتائج بہتر بنانے کے لیے بھی رہنماؤں کو خود کو بدلنا، نظام ازسرِنو تشکیل دینا اور ملازمین کے ساتھ دوبارہ جڑنا ہوگا۔ بولنے کے بجائے سننا شروع کریں۔ حکم دینے کے بجائے سوال کریں۔
دباؤ ڈالنے کے بجائے مشاورت کو فروغ دیں۔ بالآخر رہنماؤں کو آگے بڑھ کر یہ جاننا اور محسوس کرنا ہوگا کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے جو حکمتِ عملی پر عمل درآمد کے اصل معمار ہیں۔ جتنا وہ اپنے لوگوں سے دور ہوں گے، اتنا ہی وہ اپنے اہداف سے بھی دور ہوتے چلے جائیں گے۔
قیادتی تقاضا نمبر 4: عزم کو ازسرِنو توانائی دینا
رہنما بہترین حکمتِ عملیاں وضع کرتے ہیں، مگر تیار کی گئی 80 فیصد حکمتِ عملیاں عمل درآمد کے مرحلے میں ضائع ہو جاتی ہیں۔ عمل درآمد نچلی سطح تک ٹیموں کے ذریعے ہوتا ہے، اور کمزور حوصلے کے ماحول میں عزم نایاب ہو جاتا ہے۔
رہنماؤں کو ٹیموں میں نئی توانائی پیدا کرنا ہوگی۔ اس کے لیے تین بنیادی عناصر پر توجہ ضروری ہے: ایک مؤثر اور متاثر کن مقصد کی ترسیل، بااختیار بنانے اور جوابدہی پر مبنی ثقافت کی تشکیل، اور ایسے رویّوں کی حوصلہ افزائی، انعام اور تقویت جو عزم کا مظہر ہوں۔
یہ تمام تقاضے رہنماؤں کو خود اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوں گے۔ یہی ساکھ پیدا کرتا ہے، یہی قبولیت لاتا ہے اور یہی وابستگی اور عزم کی ایک مستقل رفتار کو جنم دیتا ہے۔ جیسا کہ جان ووڈن نے کہا تھا:
” آپ کے پاس سب سے طاقتور ذریعہ آپ کی اپنی مثال ہے۔“
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments