بونڈی حملے کے بعد آسٹریلوی ریاست میں اسلحہ اور نفرت انگیز تقاریر سے متعلق سخت قوانین کی منظوری متوقع
- نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمنٹ کا ایوانِ بالا منگل کو دہشت گردی اور دیگر قوانین میں ترمیمی بل منظور کرنے والا ہے
آسٹریلیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نیو ساؤتھ ویلز بونڈی میں ہونے والے فائرنگ واقعے کے بعد اسلحہ قوانین کو مزید سخت کرنے، دہشت گرد تنظیموں کی علامتوں کی نمائش پر پابندی عائد کرنے اور ہنگامی حالت میں احتجاج کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کرنے جا رہی ہے، کیونکہ حکام یہودی مخالف حملے کے ردعمل میں اقدامات تیز کر رہے ہیں۔
دہشت گردی اور دیگر قوانین میں ترمیم کا بل منگل کے روز نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سے منظور ہونے کی توقع ہے۔
ریاست کی مرکز بائیں بازو کی لیبر حکومت نے تجویز دی ہے کہ زیادہ تر افراد کے لیے اسلحہ لائسنس کے تحت ہتھیاروں کی تعداد چار تک محدود کر دی جائے، جبکہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ 10 اسلحہ رکھنے کی اجازت ہو گی۔
واضح رہے کہ 14 دسمبر کو بانڈی میں یہودیوں کے تہوار حنوکہ کی تقریب کے دوران ہونے والی اجتماعی فائرنگ میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد اسلحہ قوانین کو سخت کرنے اور یہودی مخالف نفرت کے خلاف مؤثر کارروائی کے مطالبات زور پکڑ گئے تھے۔


Comments
Comments are closed.