وزیرِ خزانہ نے اے جی پی میں حکومتی ڈیٹا اینالیٹکس سینٹر کا افتتاح کر دیا
- محمد اورنگزیب نے سرکاری فنڈز کے استعمال میں آڈٹ کوریج، شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنانے کے لئے عوامی شعبے کے ڈیٹا بیسز تک ڈیجیٹل رسائی کی ضرورت پر زور دیا
وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) میں سینٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس کا افتتاح کیا، جس کے دوران انہوں نے مشین لرننگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی آڈٹنگ اور خودکار تجزیاتی آلات سمیت جدید ڈیٹا تجزیاتی ٹیکنالوجیز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ یہ بات وزارتِ خزانہ نے ایک بیان میں کہی ہے۔
اے جی پی ہیڈکوارٹرز میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے عوامی شعبے کے ڈیٹا بیسز تک ڈیجیٹل رسائی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرکاری فنڈز کے استعمال میں آڈٹ کوریج، شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے سینٹر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتی امور میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن کے تناظر میں نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط کرے گا۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقبول احمد گوندل نے کہا کہ آڈٹ فریم ورک مقدار سے معیار کی جانب منتقل ہو رہا ہے، جس میں ادارہ جاتی اور منصوبہ جاتی بنیادوں پر رپورٹنگ پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ کو تیزی سے ایک گورننس ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی معاونت آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم ( اے ایم آئی ایس ) اور نئے قائم کردہ ڈیٹا اینالیٹکس سینٹر سمیت ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
مقبول احمد گوندل نے مزید کہا کہ یہ سینٹر ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے وزیرِ اعظم کے وژن سے ہم آہنگ ہے اور حکومت کے کیش لیس نظام کی جانب بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ڈیٹا سے بھرپور استفادہ کرے گا۔
کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس عمر علی خان نے وزیر خزانہ کو پبلک فنانشل مینجمنٹ میں اصلاحات پر بریفنگ دی، جن میں کیش لیس ادائیگیوں کا نفاذ، راست نظام، آن لائن بلنگ، ایس اے پی ہانا کی جانب منتقلی اور مرکزی سرور انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے تعاون سے بین الاقوامی معیار کے مطابق ایکروول بیسڈ اکاؤنٹنگ کی جانب منتقلی کا عمل جاری ہے۔
وزارتِ خزانہ اور آڈٹ اداروں دونوں نے عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کے تسلسل، ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شفافیت میں بہتری کے عزم کا اعادہ کیا۔


Comments