صوبوں کے درمیان پانی کے تنازعات پر قومی اسمبلی کمیٹی کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ
- سندھ اور بلوچستان کے درمیان ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کے مقامات پر اختلافات تاحال حل نہیں ہو سکے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے منگل کے روز پانی کے تنازعات پر ایک خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ سندھ اور بلوچستان کے درمیان ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کے مقامات پر اختلافات تاحال حل نہیں ہو سکے۔
احمد عتیق انور کی سربراہی میں کمیٹی نےاجلاس کے دوران صوبائی محکمہ آبپاشی کی گزشتہ دس برسوں کے دوران تجاوز شدہ یا الاٹ کی گئی اراضی کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔ یہ معاملہ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سید وسیم الحسن نے اجلاس کے گزشتہ منٹس کی توثیق کے دوران اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کن بلڈرز نے محکمہ آبپاشی کی اراضی حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اراضی پر قبضہ ہوتا ہے، پھر فنڈز مختص کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد کرپشن جنم لیتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کراچی کے شہری بڑی مقدار میں خرید کر پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری، جو زوم کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئیں، نے کہا کہ مثبت بحث خوش آئند ہے تاہم فنڈز اور کرپشن سے متعلق فوری نتائج اخذ کرنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر محکمے کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مختصر بحث کے بعد کمیٹی نے چاروں صوبوں میں آبپاشی کی اراضی اور اس کے استعمال کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔
سید وسیم الحسن نے کے فور منصوبے میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا اور سوال کیا کہ آیا یہ تاخیر فنڈنگ کے باعث ہے یا دیگر وجوہات کی بنا پر۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کا مرکز ہے مگر یہاں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ شازیہ مری نے زور دیا کہ کے فور منصوبہ کراچی کے عوام کی زندگی سے جڑا ہوا ہے اور اس میں رکاوٹیں فوری دور کی جائیں، جبکہ اس معاملے کو وزیر اعظم تک لے جانے کی تجویز بھی دی۔
سیکریٹری آبپاشی سندھ ظریف کھیڑو نے کمیٹی کو بتایا کہ سکھر بیراج کے دروازے سو سال بعد تبدیل کیے جا رہے ہیں اور کے فور منصوبے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کو پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کو سمری ارسال کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کو پانی کی فراہمی کی پیمائش صوبائی سرحد سے کی جائے نہ کہ تونسہ بیراج سے۔
کمیٹی نے نالہ ڈیک کی چینلائزیشن اور سیلابی انتظامات کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ کمزور پشتوں، مٹی کے جمع ہونے اور تجاوزات کے باعث سیلابی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی بریفنگ کے دوران سڑکوں پر ناکافی کراس ڈرینج ڈھانچوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ بند نالوں کو فوری بحال کیا جائے اور مستقبل کے انفراسٹرکچر منصوبے قدرتی بہاؤ اور سیلابی ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیے جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.