امریکی فوج کا مشرقی بحرالکاہل میں تین جہازوں پر حملہ، آٹھ افراد ہلاک
- یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے سے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف شروع کی گئی ایک وسیع فوجی مہم کا حصہ ہیں۔ امریکی فوج
امریکی سدرن کمانڈ نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے بین الاقوامی پانیوں میں تین جہازوں پر فضائی حملے کیے، جن میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکی فوج کے مطابق انٹیلی جنس معلومات سے تصدیق ہوئی تھی کہ یہ جہاز مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سفر کر رہے تھے اور منشیات کی غیرقانونی ترسیل میں ملوث تھے۔
سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے سے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف شروع کی گئی ایک وسیع فوجی مہم کا حصہ ہیں۔ اس مہم کے تحت امریکا اب تک بحرالکاہل اور کیریبین سمندر میں، وینزویلا کے قریب، 20 سے زائد مشتبہ جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 90 مبینہ منشیات اسمگلرز ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ حکمت عملی اس اعتبار سے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کہ ماضی میں امریکا منشیات اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام پر زیادہ انحصار کرتا رہا ہے، جبکہ براہ راست فوجی طاقت کا استعمال شاذ و نادر ہی کیا جاتا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کا بھرپور دفاع کیا ہے، تاہم متعدد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں مشتبہ افراد کو نشانہ بنانا ماورائے عدالت ہلاکتوں کے زمرے میں آ سکتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
پینٹاگون کے پریس سیکریٹری کنگزلی ولسن نے اس ماہ کے اوائل میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ سدرن کمانڈ کے خطے میں کی جانے والی تمام کارروائیاں امریکی اور بین الاقوامی قانون کے تحت قانونی ہیں اور مسلح تنازعات کے قانون کی مکمل پاسداری کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحری حملے ممکنہ طور پر وینزویلا کے اندر زمینی کارروائیوں کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں، جن کے آغاز کا عندیہ صدر ٹرمپ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ ایسی کسی بھی ممکنہ کارروائی سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


Comments