کپاس کی قیمتیں مستحکم، اسپاٹ ریٹ میں 100 روپے من اضافہ
- کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اسپاٹ ریٹ بڑھا کر 15 ہزار 500 روپے فی من مقرر کیا ہے
معیاری کپاس کی قیمتوں میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا گیا، تاہم اسپاٹ ریٹ میں 100 روپے فی من اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اس کے برعکس کاروباری حجم میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے باعث پوری صنعت کی کارکردگی منفی طور پر متاثر ہو رہی ہے۔
کپاس اور ٹیکسٹائل کی صنعت اس وقت ملکی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق صنعت انتہائی مشکل دور میں داخل ہو چکی ہے اور فوری حکومتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں جاری ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے ٹیکسٹائل سمیت دیگر صنعتوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث خام مال اور تیار مال کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور پیداواری عمل سست پڑ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسان پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ آئی ایم ایف کے تحت زرعی ادویات اور کھاد پر اضافی پانچ فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
کپاس کی پیداوار، جو کبھی ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں تک پہنچتی تھی، اب کم ہو کر تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں تک آ گئی ہے۔
ملک بھر میں 100 سے زائد اسپننگ ملز اور 400 سے زیادہ جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جس سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ سستی درآمدی یارن اور کپڑے، بھاری ٹیکسز اور خطے میں سب سے مہنگی بجلی نے مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سندھ اور پنجاب میں کپاس کی قیمتیں 13,800 سے 16,000 روپے فی من جبکہ پھٹی 6,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلو تک رہی۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اسپاٹ ریٹ بڑھا کر 15,500 روپے فی من مقرر کیا۔
دوسری جانب ایف آئی اے اور ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ نے مشترکہ کارروائی میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کو وفاقی ٹرسٹ پراپرٹی قرار دے کر خالی کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدی یارن پر ڈیوٹی عائد کی جائے، بجلی سستی کی جائے اور ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال فوری ختم کرائی جائے ،تاکہ صنعت کو تباہی سے بچایا جا سکے۔


Comments