BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Decreased By (-0.21%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.06%)
BAFL 57.03 Decreased By ▼ -0.17 (-0.3%)
BIPL 27.09 Increased By ▲ 0.20 (0.74%)
BOP 34.07 Increased By ▲ 0.38 (1.13%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.14 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
DGKC 206.50 Decreased By ▼ -3.40 (-1.62%)
FABL 100.50 Increased By ▲ 1.55 (1.57%)
FCCL 54.65 Increased By ▲ 0.91 (1.69%)
FFL 16.63 Increased By ▲ 0.17 (1.03%)
GGL 24.80 Increased By ▲ 0.98 (4.11%)
HBL 302.50 Increased By ▲ 0.08 (0.03%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 0.95 (0.43%)
HUMNL 10.49 Decreased By ▼ -0.05 (-0.47%)
KEL 7.39 Increased By ▲ 0.11 (1.51%)
LOTCHEM 29.30 Decreased By ▼ -0.35 (-1.18%)
MLCF 94.40 Decreased By ▼ -1.96 (-2.03%)
OGDC 315.40 Decreased By ▼ -2.82 (-0.89%)
PAEL 43.16 Increased By ▲ 1.39 (3.33%)
PIBTL 16.73 Decreased By ▼ -0.08 (-0.48%)
PIOC 296.00 Decreased By ▼ -0.62 (-0.21%)
PPL 219.75 Decreased By ▼ -0.42 (-0.19%)
PRL 49.70 Increased By ▲ 0.65 (1.33%)
SNGP 104.62 Decreased By ▼ -1.51 (-1.42%)
SSGC 28.39 Decreased By ▼ -0.75 (-2.57%)
TELE 8.78 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 13.17 Increased By ▲ 0.66 (5.28%)
TRG 60.15 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
UNITY 10.39 Increased By ▲ 0.37 (3.69%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
پاکستان

ڈسکوز ڈیٹا کی فراہمی میں ناکام، آڈٹ پیراز کا تصفیہ تعطل کا شکار ہے، پاور ڈویژن

  • پبلک اکائونٹس کمیٹی کی متعلقہ دستاویزات فراہم نہ کرنے پر ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹوز پرسخت تنقید
شائع اپ ڈیٹ

پاور ڈویژن نے جمعرات کے روز اس بات کا اعتراف کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں(ڈسکوز) جان بوجھ کر آڈیٹر جنرل کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے سے گریز کر رہی ہیں، جس کے باعث آڈٹ پیراز کے تصفیے میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں، جس کی صدارت جے یو آئی ف کی شاہدہ بیگم کر رہی تھیں، سیکریٹری پاور ڈاکٹر فخرِ عالم عرفان نے کمیٹی ارکان کے ان سوالات کے جواب دیے جو 2023-24 کے لیے ڈسکوز سے متعلق آڈٹ پیراز سے متعلق تھے۔ پاور ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کے مالی سال 2023-24 کے آڈٹ شدہ کھاتوں کی رپورٹ میں مجموعی طور پر 579 پیراز شامل ہیں جن میں 357 کمپلائنس آڈٹ سے متعلق ہیں جبکہ باقی دیگر زمروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب تک صرف 11 کمپلائنس آڈٹ پیراز پر پی اے سی کے اجلاسوں میں 25 فروری 2025 اور 22 جولائی 2025 کو بحث کی گئی ہے۔

آڈٹ حکام نے 18 پیراز کی تازہ صورتحال پیش کی جن کی مجموعی مالیت 178.193 ارب روپے بنتی ہے۔ 77.05 ملین روپے مالیت کے چار پیراز کی تصدیق، ریکوری، ریگولرائزیشن یا متعلقہ محکمے کے مؤقف کے مطابق تصفیے کی سفارش کی گئی۔ 1.525 ارب روپے کے 11 پیراز پر ڈی اے سی سطح پر بات چیت ہوئی اور ہدایات جاری کی گئیں، جب کہ 7.024 ارب روپے مالیت کے 546 پیراز مزید پیروی کے لیے ڈی اے سی کو بھیجے گئے۔ گیارہ پیراز عدالتوں، نیب اور ایف آئی اے کو بھیجے جا چکے ہیں۔ آڈٹ نے مجموعی طور پر 8.698 ارب روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی، جبکہ اب تک 9.340 ارب روپے کی ریکوری ہو چکی ہے۔

کارروائی کے دوران کمیٹی ارکان نے ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹوز پر سخت تنقید کی کہ وہ آڈٹ پیراز نمٹانے کے لیے درکار دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جن میں صارفین سے متعلق ریکارڈ اور 9.142 ارب روپے کے بجلی بلوں کی تفریق سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ پی اے سی نے نشاندہی کی کہ ڈسکوز نے دو ماہ سے زیادہ کے جمع شدہ یونٹس کو الگ کر کے صارفین کے کھاتوں میں بڑی رقوم ایڈجسٹ کیں لیکن میٹر ریڈرز، میٹر انسپکٹرز اور ایس ڈی اوز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ ماہانہ کھپت درست طریقے سے درج کرتے۔

ڈائریکٹر جنرل آڈٹ (پاور سیکٹر) نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ڈسکوز نے گزشتہ ہفتے تک اپنا بلنگ ڈیٹا شیئر نہیں کیا تھا، جس کے باعث پیراز کے تصفیے میں تاخیر ہوئی۔

سیکریٹری پاور نے بطور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر بتایا کہ ڈسکوز کے لیے نئے قواعد وضع کیے گئے ہیں جن کے تحت وہ اس بات کی تصدیق کا سرٹیفکیٹ فراہم کریں گے کہ آڈٹ کو تمام درست دستاویزات ہارڈ کاپی اور ای میل کے ذریعے فراہم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مطلوبہ شواہد نہ دینے کی وجہ سے پیراز کے تصفیے میں تاخیر کی ذمہ داری ڈسکوز پر ہے۔

پی اے سی کے رکن سید حسن طارق نے سیکریٹری پر الزام لگایا کہ وہ ڈسکوز کے سی ای اوز کا دفاع کر رہے ہیں، جو کہ بنیادی طور پر بدانتظامی کے ذمہ دار ہیں۔

چیئرپرسن پی اے سی نے کہا کہ ملکی معیشت زوال پذیر ہے اور توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا گردشی قرض اس شعبے کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس پر سیکریٹری پاور نے سی ای اوز کا دفاع کرنے کی تردید کی اور کہا کہ ڈویژن پی اے سی کی طرف سے دی گئی ہر ہدایت پر مکمل عمل کرے گا۔

پی اے سی نے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کے سی ای او کو بھی اس پر سرزنش کی کہ وہ اوور بلنگ میں ملوث 43 اہلکاروں کے نام فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ سیکریٹری نے مزید تسلیم کیا کہ ڈسکوز شدید اسٹاف کی کمی کا شکار ہیں، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.