بعض طالبان عناصر عسکری گروہوں کی نقل و حرکت میں سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں ، پاکستان کا الزام
- اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی نمائندے عاصم افتخار احمد نے افغانستان سے جنم لینے والے سکیورٹی، انسانی اور سماجی و معاشی چیلنجز پر اسلام آباد کے تحفظات کا اظہار کیا
پاکستان نے کہا ہے کہ طالبان کی صفوں میں موجود بعض عناصر دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں پاکستان میں کارروائیاں کرنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کر رہے ہیں۔
نیویارک میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے افغانستان سے جنم لینے والے سکیورٹی، انسانی اور سماجی و معاشی چیلنجز پر اسلام آباد کے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف رواں سال ہی پاکستان نے افغانستان سے منتقل ہونے والی دہشت گردی کے باعث تقریباً 1,200 جانوں کا نقصان برداشت کیا ہے۔2022 سے اب تک پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں 214 سے زائد افغان دہشت گردوں کو، جن میں خودکش بمبار بھی شامل تھے ہلاک کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
نمائندے کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی، القاعدہ، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ سمیت متعدد دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے متعدد دہشت گردوں کی افغانستان سے دراندازی کی کوششیں ناکام بنائیں اور بڑی مقدار میں وہ فوجی سازوسامان قبضے میں لیا جو بین الاقوامی افواج نے افغانستان میں چھوڑا تھا۔
ان کے مطابق طالبان کے بعض عناصر ان گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور انہیں بلا خوف و خطر کام کرنے کی سہولت دے رہے ہیں۔ اس بات کے بھی ٹھوس شواہد ہیں کہ یہ گروہ مشترکہ تربیت، غیرقانونی اسلحہ تجارت، ایک دوسرے کو پناہ دینے اور پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے مربوط حملوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ مشن برائے افغانستان (یوناما) پر زور دیا کہ وہ غیرقانونی اسلحہ کی ترسیل روکنے کے لیے اقدامات کو مضبوط کرے اور سرحدی سکیورٹی کا غیرجانبدارانہ جائزہ پیش کرے۔


Comments
Comments are closed.