BR100 Increased By (1.41%)
BR30 Increased By (1.01%)
KSE100 Increased By (1.25%)
KSE30 Increased By (1.41%)
BAFL 58.84 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.18 (0.67%)
BOP 34.43 Increased By ▲ 0.73 (2.17%)
CNERGY 11.12 Increased By ▲ 0.11 (1%)
DFML 18.26 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 216.50 Increased By ▲ 4.47 (2.11%)
FABL 101.25 Increased By ▲ 1.11 (1.11%)
FCCL 56.29 Increased By ▲ 1.15 (2.09%)
FFL 16.31 Increased By ▲ 0.21 (1.3%)
GGL 23.99 Increased By ▲ 0.24 (1.01%)
HBL 317.76 Increased By ▲ 10.77 (3.51%)
HUBC 221.15 Increased By ▲ 2.67 (1.22%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.28 Increased By ▲ 0.02 (0.28%)
LOTCHEM 27.13 Increased By ▲ 0.22 (0.82%)
MLCF 97.40 Increased By ▲ 1.47 (1.53%)
OGDC 315.80 Increased By ▲ 1.69 (0.54%)
PAEL 42.65 Increased By ▲ 0.73 (1.74%)
PIBTL 16.71 Decreased By ▼ -0.03 (-0.18%)
PIOC 270.74 Increased By ▲ 3.57 (1.34%)
PPL 219.30 Increased By ▲ 1.58 (0.73%)
PRL 64.15 Increased By ▲ 1.45 (2.31%)
SNGP 107.42 Increased By ▲ 0.62 (0.58%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.26 (0.97%)
TELE 8.55 Increased By ▲ 0.07 (0.83%)
TPLP 14.95 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 61.37 Increased By ▲ 0.70 (1.15%)
UNITY 10.62 Increased By ▲ 0.49 (4.84%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.02 (1.65%)
پاکستان

بھارت کے بغیر پاکستان سے علاقائی اتحاد اسٹریٹیجک طور پر ممکن ہے ، بنگلہ دیش

  • پاکستان کے ساتھ نئے علاقائی ڈھانچے کا قیام ممکن ، یہ کوشش مستقبل میں پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔ نیپال اور بھوٹان کے لیے ایسا اتحاد عملی نہیں مگر بنگلہ دیش کے لیے اسٹریٹیجک مواقع موجود ہیں ، مشیر خارجہ امور محمد توحید حسین
شائع اپ ڈیٹ

مشیر خارجہ امور بنگلہ دیش محمد توحید حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کو شامل کیے بغیر کسی علاقائی گروپ میں شامل ہونا بنگلہ دیش کے لیے اسٹریٹیجک طور پر ممکن ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے مطابق انہوں نے مزید کہاکہ مگر نیپال یا بھوٹان کے لیے ایسا کرنا عملی طور پر مشکل ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد کانکلیو میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان، چین اور بنگلہ دیش پر مشتمل ایک نئی سہ فریقی پہل شروع ہو چکی ہے، جو مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک تک پھیل سکتی ہے۔ توحید حسین نے کہا کہ اسحاق ڈار کا بیان ممکنہ امکانات کی نشاندہی کرتا ہے، مگر اس پر فی الحال وہ مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔

اگست میں اسحاق ڈار کے دورۂ ڈھاکہ کو پاک بنگلہ تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک نے ماضی کے تنازعات سے آگے بڑھ کر تجارت، نوجوانوں و تعلیمی تبادلوں، ثقافتی روابط اور خصوصاً سارک کی بحالی پر بات چیت کی۔

چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا تھا کہ دونوں کی اقتصادی ترجیحات ہم آہنگ ہیں اور سارک ہماری مشترکہ ترجیح ہے۔

2016 سے، جب اُڑی واقعے کے بعد بھارت نے اسلام آباد میں ہونے والا سارک سربراہ اجلاس منسوخ کروا دیا تھا، یہ تنظیم مفلوج پڑی ہے۔ بھارت پاکستان کشیدگی کے باعث خطے کے دیگر ممالک کی اجتماعی کوششیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق چین کی جانب سے سارک بِن بھارت ماڈل میں دلچسپی ظاہر کیے جانے سے دوبارہ علاقائی تعاون کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ایسا ڈھانچا تجارت، رابطوں اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں مشترکہ فوائد پر توجہ دے سکتا ہے۔


Comments

Comments are closed.