کمزوری ہی اصل طاقت ہے
- ذمہ داری کی اصل طاقت صرف اپنی کامیابیوں کا نہیں بلکہ اپنی غلطیوں کا بوجھ بھی اٹھانے میں ہے
اپنی پہلی ملازمت میں، میں نے قیادت کی بہترین اور بدترین شکلیں قریب سے دیکھیں۔ میں ایک انجینئرنگ کمپنی میں شامل ہوئی، حالانکہ میں انجینئر نہیں تھی۔ میں ایک عورت تھی اور آج بھی ہوں۔ ایگزیکٹو عہدے پر بھرتی ہونے والی پہلی خاتون بھی میں ہی تھی۔ نو عمر ہونے اور آگے بڑھنے کے جذبے کے باوجود، میں مشین ٹول کمپنی کے روزمرہ کے چکر میں الجھ کر رہ گئی۔ پہلا دھچکا مجھے یہ لگا کہ سیکھنا کس طرح نہیں سیکھا جاتا۔ لوگ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ کام وہیں اور اسی رفتار سے ہو جہاں اور جیسے وہ چاہتے تھے۔
لوگ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ میرا انجینئرنگ کا پس منظر نہ ہونا مجھے آدھا ادھورا ثابت کرے۔ لوگ اس بات کا بھی اہتمام کرتے تھے کہ مردانہ ٹیکنالوجی کلچر میں ایک عورت ہونے کا مطلب یہ ہو کہ آپ اتنی ہی ناواقف رہیں کہ بس معمولی اور بچا کھچا کام ہی آپ کے حصے میں آئے۔ جب آپ ابھی یونیورسٹی سے نکل کر عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو راستہ ٹٹول رہے ہوتے ہیں۔ آپ کو حقیقتاً معلوم نہیں ہوتا کہ عملی زندگی واقعی ایسی ہی ہے یا کہیں کوئی دوسری دنیا بھی موجود ہے۔
بوریت کم کرنے کے لیے، جاپانی تعاون سے تیار کردہ ایک انجن لانچ ہونا تھا۔ مجھے نقل کرنے، ادارت کرنے اور رپورٹس اکٹھی کرنے جیسا نسبتاً دلکش کام سونپا گیا، اور کم از کم یہ اس سے بہتر تھا کہ میٹنگ میں لوگوں کی حاضری کا پیچھا کرتے پھریں۔
قصہ مختصر، انجن لانچ ہوا اور بری طرح ناکام رہا۔ اس ناکامی نے تحقیقات اور تجزیوں کا ایک سلسلہ چھیڑ دیا کہ آخر غلطی کہاں ہوئی۔ متعدد میٹنگز ہوئیں اور یوں روایتی طور پر دوسروں پر ذمہ داری ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
بورڈ نے سربراہ کو قصوروار ٹھہرایا، سربراہ نے ٹیم کو، اور یوں ہر میٹنگ کسی نہ کسی قربانی کے بکرے سے شروع ہوتی اور بغیر کسی حل کے ختم ہوجاتی۔ حالات اس وقت مزید خراب ہوگئے جب جاپانی ٹیم نے اس ’’عظیم ناکامی‘‘ کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ طے کر لیا۔ سب شدید دباؤ میں تھے۔ ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ کیسے اس تباہی کی ذمہ داری سے بچا جائے، ٹالا جائے، گھمایا جائے یا کسی اور پر منتقل کیا جائے۔
آخر وہ دن آ ہی گیا۔ ہم سب بیٹھ گئے، یہ جانتے ہوئے کہ شاید اب درجے بڑھانے کے نام پر سب کی سرزنش ہونے والی ہے۔ رسمی تعارف کے بعد جاپانی سربراہ کھڑے ہوئے تاکہ ابتدائی گفتگو کرسکیں۔ انہوں نے آغاز ہی میں کہا: ’’میں غلط تھا کہ میں نے پاکستان کی مارکیٹ کی مقامی حقیقتوں کو مدنظر نہیں رکھا۔‘‘
ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ مجھے لگا شاید ان کی انگریزی کمزور ہے اور میں بات سمجھنے میں غلطی کر رہی ہوں، لیکن پھر انہوں نے اپنے فیصلوں کی غلطیوں کی پوری وضاحت پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ حقیقت میں نظرانداز کر بیٹھا‘‘، ’’یہ پہلو مجھے دکھائی نہیں دیا‘‘، اور ’’اس رپورٹ پر میں نے توجہ نہیں دی‘‘۔ حیرت اور سکتہ۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا سن رہی ہوں۔ آج تک، دہائیاں گزرنے کے باوجود، وہ لمحہ میری یاد میں جوں کا توں ہے۔ اسی نے میری قیادت، انتظام اور زندگی کے بارے میں سوچ بدل کر رکھ دی۔
اگلی دو دہائیوں میں جب میں نے کام کی دنیا اور زندگی میں مزید گہرائی کے ساتھ قدم رکھا تو دیکھا کہ بہت سی چیزیں بدل جاتی ہیں، مگر اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لینے سے اجتناب کی “مزاحمت” نہیں بدلتی۔ بلکہ یہ رویہ عہدہ اور اختیار بڑھنے کے ساتھ اور بھی طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
لیڈرز کا انحصاری ذہنیت ہونا، زیادہ تر لیڈر کامیابی کا کریڈٹ خود لیتے ہیں اور ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ جیسے ہی نتائج میل نہ کھائیں، ان کا ذہن فوراً یہ سوچنا شروع کردیتا ہے کہ کس کس پر ذمہ داری ڈالی جائے۔ ان کا ایک ’’کچن کیبنٹ‘‘ ہوتا ہے، ایسے لوگوں کا گروہ جو انہیں چاپلوسی کا نشہ دیتا رہتا ہے۔ یہ لوگ مسلسل ان کی “ایچ جی وائی اے” یعنی “ ہاؤ گریٹ یو آر (آپ کتنے عظیم ہیں)” کی بھوک مٹاتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کچھ غلط ہوتا ہے، یہی سی ای او- ایچ جی وائی اے ٹولہ انہیں بتاتا ہے کہ کس چیز یا کس شخص کو موردِ الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ یوں قائد ہر چیز، خراب معیشت، ناقص مارکیٹ حالات، ٹیلنٹ کی کمی، کو قربانی کا بکرا بنا لیتا ہے۔ اس سوچ سے وہ اپنے آپ کو تو بچا لیتا ہے مگر طویل مدت میں یہ رویہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔
لیڈرز کا یہ خوف کہ وہ چھوٹے لگیں گے، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ وہ نااہل یا بے وقوف دکھائی دیں گے۔ وہ ’’عظیم‘‘ اور ’’بے عیب‘‘ نظر آنے پر حد سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ اعلیٰ عہدوں پر اس لیے ہیں کہ وہ دوسروں سے بہتر ہیں، اور غلطیوں کا اعتراف انہیں دوسروں کے برابر یا ان سے نیچے لے آئے گا۔
یہ دونوں عوامل اُن لوگوں میں پائے جاتے ہیں جو خود اپنے بارے میں غیر محفوظ ہوتے ہیں اور اپنی عدمِ تحفظ کو دبانے کے لیے بیرونی توثیق کے محتاج رہتے ہیں۔ یہی معاملہ ذاتی تعلقات میں بھی نظر آتا ہے۔ خاندان اُس وقت بکھر جاتے ہیں جب شریکِ حیات غلطی ماننے سے انکاری ہوں، یا الزام دیے جانے پر رنجیدہ ہو جائیں۔
اس رویے سے ردِعمل، جوابی حملوں اور انکار کا ایک سلسلہ جنم لیتا ہے۔ اسی لیے انسان کے اندر، اور خاص طور پر اُن لوگوں میں جو عہدوں اور مرتبوں پر ہوتے ہیں، سب سے ضروری صفت ذمہ داری پیدا کرنا ہے۔ ذمہ دار قیادت کو عموماً اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو متعدد کردار اور فرائض سنبھالتے ہیں۔
انہیں وسیع تر مارکیٹ ڈومینز دیکھنے ہوتے ہیں۔ ان کا ’’اسپن آف کنٹرول‘‘ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ سب درست تشریحات ہیں۔ یہ وسعت انہیں زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ دینے کی پوزیشن اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ لیکن ذمہ داری کی اصل طاقت صرف اپنی کامیابیوں کا نہیں بلکہ اپنی غلطیوں کا بوجھ بھی اٹھانے میں ہے۔
یہی وہ چیز ہے جو ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان سے ممتاز کرتی ہے۔ کمپنیوں میں اس خوبی اور اس کلچر کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے فوائد بے شمار ہیں، مگر قیادت کے دہلیزوں میں اس کے خریدار بہت کم ہیں۔ آئیے اسے فروغ دینے کی کوشش کریں کیونکہ:
سپر پاور #1: کمزوری ایک طاقت ہے
وہ دن گزر گئے جب ’’سپر ہیروز‘‘ شاندار دفاتر میں بند رہتے تھے اور نیچے موجود لوگ اُن کی طرف حیرت سے دیکھتے تھے۔ ٹیمیں اب انسانیت چاہتی ہیں۔ ٹیمیں سچ چاہتی ہیں۔ ٹیمیں عاجزی چاہتی ہیں۔ گیلپ کے ایک حالیہ عالمی سروے میں 82 فیصد ملازمین نے کہا کہ وہ اپنے لیڈر سے یہ جادوئی الفاظ سننا چاہتے ہیں: ’’ہاں، میں غلط تھا‘‘، مگر صرف 42 فیصد نے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ الفاظ سنے ہیں۔ کمزور دکھائی دینے والے لیڈر اصل میں غیر محفوظ لیڈروں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
سپر پاور #2 : شفافیت سے اعتماد جنم لیتا ہے
دیانت کا آغاز خود سے ہوتا ہے۔ جب آپ کھلے عام اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو لوگ آپ کو ایماندار اور باہمت سمجھتے ہیں۔ لوگ آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لوگ آپ سے جڑتے ہیں۔ آپ اُن کے لیے تازگی کا احساس بن جاتے ہیں۔
سپر پاور #3: جیسی ثقافت آپ بناتے ہیں، ویسی ہی آپ کو ملتی ہے
اگر اعلیٰ سطح کے لیڈر اپنی غلطیوں کو قبول نہیں کریں گے، تو آپ کے مینیجر بھی ایسا نہیں کریں گے۔ اور اُن کے مینیجر بھی نہیں۔ یوں الزام تراشی اور قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی ثقافت جنم لیتی ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری سب سے پہلے خود لیتے ہیں، تو دوسروں پر بھی ایسا کرنے کا دباؤ بنتا ہے اور ذمہ داری کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔
سپر پاور #4: ملکیت بڑھنے سے ترقی کو ایندھن ملتا ہے
جب وقت اس بات میں ضائع ہو کہ کس پر الزام ڈالا جائے اور حل پر کم توجہ ہو، تو تنازع ترقی روک دیتا ہے۔ لیکن جب غلطی قبول کی جاتی ہے تو حل کے لیے جگہ بنتی ہے، اور یوں ترقی تیز ہونے لگتی ہے۔
کمزور بنیے، سپر لیڈر بنیے۔ جیسا کہ برینے براؤن کہتی ہیں:
’’کمزوری ہی جدت، تخلیقی صلاحیت اور تبدیلی کی جائے پیدائش ہے۔‘‘
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments