پنجاب اور چین میں جدید زرعی تعاون کیلئے متعدد معاہدے
- وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ، صوبے میں ریکارڈ پیداوار اور اصلاحات کی پیش رفت
پنجاب اور چین کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ترقی اور زرعی شعبے کی جدت کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مشینری کے لیے دو بی ٹو بی ایم او یوز جبکہ زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے تین مزید ایم او یوز طے پائے۔ کسانوں کے لیے معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے پنجاب کی زرعی ترقی کے لیے باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبے کی زرعی پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ حکام نے بتایا کہ رواں سال پنجاب میں کھاد کی مسلسل اور بھرپور فراہمی برقرار رہی اور قیمتوں میں اضافہ نہ ہوا، نہ ہی بلیک مارکیٹنگ ہوئی۔
مزید بتایا گیا کہ فروری 2024 سے ڈی اے پی اور یوریا کی قیمتیں اور سپلائی مستحکم رہی۔ پنجاب نے گندم کی کاشت کا ہدف بھی مقررہ وقت میں پورا کرتے ہوئے ملک بھر میں سبقت حاصل کی، جس کے تحت 1 کروڑ 65 لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی گئی۔ گندم کے بیج کی فروخت میں 27 فیصد جبکہ یوریا کی فروخت میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پنجاب سیڈ کارپوریشن کے مصدقہ بیج کے ہر تھیلے پر 500 روپے سبسڈی دی گئی۔ صوبے میں پہلی بار 8 لاکھ کسان کارڈز جاری کیے گئے جن کے ذریعے 250 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، جن میں سے 160 ارب روپے بیج، کھاد اور زرعی زہروں کی خریداری میں استعمال ہوئے۔ قرضوں کی وصولی کی شرح 96 فیصد رہی جو صوبے میں سب سے زیادہ ہے۔


Comments