تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی لڑائی روکنے کیلئے فون کرونگا، ٹرمپ
- ٹرمپ نے جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان پانچ روزہ جنگ ختم کرنے کے لیے جنگ بندی میں سہولت فراہم کی تھی
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان لڑائی بدھ کے روز تیسرے دن بھی جاری رہی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تنازع روکنے کے لیے فون کال کریں گے۔ ٹرمپ نے جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان پانچ روزہ جنگ ختم کرنے کے لیے جنگ بندی میں سہولت فراہم کی تھی۔
تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ سرحدی تنازع میں بات چیت کے امکانات نہیں ہیں اور صورتحال ثالثی کے لیے سازگار نہیں ہے، جبکہ کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن منیت کے ایک اعلیٰ مشیر نے روئٹرز کو بتایا کہ ان کا ملک کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہے۔
پنسیلوانیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے متعدد جنگوں کو روکا، جن میں پاکستان اور بھارت، اسرائیل اور ایران شامل ہیں، انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا کے تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تنازع ہے، کمبوڈیا-تھائی لینڈ، اور آج شروع ہوا، کل مجھے فون کرنا پڑے گا۔ کون اور کہہ سکتا ہے کہ میں فون کرکے دو طاقتور ممالک کی جنگ روک دوں؟“
ٹرمپ نے پہلے بھی دونوں ممالک کے رہنماؤں سے بات کی اور جولائی کی لڑائیوں کے بعد نازک فائر بندی میں اہم کردار ادا کیا، جس میں کم از کم 48 افراد ہلاک ہوئے۔
تھائی وزیر خارجہ نے روئٹرز کو بتایا کہ تجارتی ٹیرف پر دباؤ ڈال کر بات چیت کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں سے لاکھوں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
کمبوڈیا کے دفاعی وزارت کے مطابق منگل تک نو عام شہری ہلاک اور 20 شدید زخمی ہوئے، جبکہ تھائی حکام کے مطابق چار فوجی ہلاک اور 68 زخمی ہوئے۔
تھائی فوج کا مقصد اپنے پڑوسی کی حملہ آور صلاحیت کو محدود کرنا ہے، جبکہ کمبوڈیا کے مطابق ان کے فوجیوں کو دفاعی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ تھائی فوج نے عام شہری علاقوں کو بلا امتیاز اور بری طرح نشانہ بنایا۔ تھائی حکام نے اس الزام کو مسترد کیا۔


Comments