بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر بہنوں کا دھرنا جاری
- جیل اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت، تعلیمی ادارے اور پیٹرول پمپس بند ، اڈیالہ روڈ کو بھی سیل
بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر ان کی بہنوں کا احتجاجی دھرنا منگل کو بھی جاری رہا۔
آج نیوز کے مطابق عظمیٰ خان اور نورین نیازی سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ جیل کے باہر پہنچیں، تاہم حکام نے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اہل خانہ اور پارٹی کارکن بڑی تعداد میں جیل کے باہر جمع ہوگئے جس کے باعث سکیورٹی سخت کردی گئی۔
بعد ازاں علیمہ خان بھی فیکٹری چیک پوائنٹ پر احتجاج میں شامل ہوئیں اور درجنوں پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ دھرنا دیا، نعرے لگائے اور سابق وزیرِ اعظم تک رسائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے علاقے کو خالی کرنے کے لیے بار بار ہدایات جاری کیں جب کہ اڈیالہ جیل کے راستوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی۔
حکام نے جیل اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی۔ داہگل اور گورکھپور میں دکانیں، تعلیمی ادارے اور پیٹرول پمپس بند کر دیے گئے اور اڈیالہ روڈ کو بھی سیل کیا گیا۔ دفعہ 144 کے تحت واٹر کینن اسٹینڈ بائی پر رکھے گئے۔
قبل ازیں جب علیمہ خان، نورین نیازی، عظمیٰ خان جیل کی جانب روانہ ہوئیں تو پولیس نے انہیں گورکھپور چیک پوسٹ پر روکا، تاہم کچھ دیر بعد انہیں آگے جانے کی اجازت دی گئی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی دَاہگل پہنچے اور صحافیوں کو بتایا کہ بانی پارٹی سے ملاقات جیل کے قواعد کے تحت قانونی حق ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ملک مزید سیاسی عدم استحکام برداشت نہیں کر سکتا اور تمام فریقین سے کہا کہ تناؤ کم کریں۔
گوہر علی خان نے کہا کہ اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کو بار بار روکے جانا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے اور اہلِ خانہ و وکلاء دونوں کو ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔
گزشتہ ہفتے ایک ماہ کے تعطل کے بعد عظمیٰ خان نے اپنے بھائی سے ملاقات کی اور صحافیوں کو بتایا کہ بانی کی صحت الحمد اللہ ٹھیک ہے، تاہم وہ غصے میں تھے اور انہیں ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملاقات اس شرط پر کروائی گئی کہ بعد میں پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔
بعد ازاں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ جیل میں ملاقاتیں جیل کے قواعد کے مطابق کروائی جاتی ہیں اور جن افراد نے قواعد کی خلاف ورزی کی، ان کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں۔


Comments