مالی سال 2025، پاکستان کا بیرونی قرضہ جی ڈی پی کے مقابلے میں 26 فیصد پر آ گیا
- پاکستان کا بیرونی قرضہ گزشتہ تین برس سے جون 2022 کی سطح پر تقریباً برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے بدھ کو کہا کہ مالی سال 2025 میں ملک کا بیرونی قرضہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں کم ہو کر 26 فیصد رہ گیا ہے، جو چند سال پہلے 31 فیصد تھا۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ترسیلات زر میں نمایاں اضافے نے غیر ملکی قرض پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ گزشتہ تین برس سے جون 2022 کی سطح پر تقریباً برقرار ہے (جبکہ عام تاثر یہ تھا کہ اس میں بڑا اضافہ ہوا ہے)۔‘ وہ ’پاکستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈے 2025‘ کی تقریب کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔
گورنر نے کہا کہ مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران جتنی بھی بیرونی فنانسنگ حاصل کی گئی، اسے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے بجائے پرانے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مالی سال 2015 سے 2022 تک بیرونی فنانسنگ اوسطاً ماہانہ 6.4 ارب ڈالر بڑھ رہی تھی۔
معلوم ہوا ہے کہ ملکی معیشت کا حجم مالی سال 2025 میں بڑھ کر 407.10 ارب ڈالر ہو گیا ہے، جو مالی سال 2022 میں 375 ارب ڈالر تھا۔
گزشتہ تین برسوں میں ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس سے بیرونی فنانسنگ پر انحصار مزید کم ہو گیا ہے۔ مالی سال 2025 میں ترسیلات زر بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو مالی سال 2024 میں 30.3 ارب ڈالر تھیں، یعنی سالانہ بنیاد پر 27 فیصد اضافہ۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ جاری مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی درآمدات بڑھ رہی ہیں اور نومبر 2025 میں یہ 5.2 ارب ڈالر رہیں۔ تاہم انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اندازوں سے بڑھ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2025 کے لیے طے شدہ تخمینے یعنی جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان ہی رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو دی جانے والی بینک فنانسنگ 150 ارب روپے کے اضافے سے 700 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو مقررہ ہدف سے بہتر کارکردگی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے گزشتہ سال 550 ارب روپے کے مقابلے میں آئندہ پانچ برس میں ایس ایم ای فنانسنگ کو بڑھا کر 1.1 کھرب روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔


Comments
Comments are closed.