کیش لیس پاکستان، جاز نے بی آئی ایس پی کی 20 لاکھ خواتین کو مفت سمز کی فراہمی کا آغاز کردیا
- 17 لاکھ سمز جاز کیش موبائل والیٹس سے منسلک کی جائیں گی
وزیراعظم کے کیش لیس، شفاف اور ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت جاز نے ملک بھر میں بی آئی ایس پی کی مستفید 20 لاکھ خواتین کو مفت سمز اور محفوظ جاز کیش والیٹس فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، ان میں سے 17 لاکھ سمز جاز کیش موبائل والیٹس سے منسلک کی جائیں گی جس کے نتیجے میں وہ خواتین بھی ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہو سکیں گی جو برسوں سے باضابطہ مالیاتی نظام سے باہر رہی ہیں۔
یہ اقدام وزیراعظم کی ہدایت کے بعد کیا گیا ہے جس میں موبائل آپریٹرز کو ہدایت دی گئی کہ بی آئی ایس پی پروگرام سے مستفید خواتین کو مفت سمیں جاری کریں تاکہ پاکستان کا کمزور طبقہ نقد نظام سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی کے دوران پیچھے نہ رہ جائے۔
نئے نظام کے تحت اہل خواتین کو مفت جاز سم فراہم کی جائے گی، جو ان کے جاز کیش والیٹ سے منسلک ہوگی اور آئندہ مالی امداد براہِ راست اسی والیٹ میں جمع ہوگی۔ نقد رقوم کے مقابلے میں یہ محفوظ، شفاف اور دھوکہ دہی سے پاک نظام خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنائے گا جہاں وہ براہِ راست اپنی رقم حاصل کر سکیں گی، ادائیگیاں کر سکیں گی اور ضروری مالی سہولیات استعمال کر سکیں گی۔
بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ خواتین کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور جاز ابتدائی طور پر 20 لاکھ خواتین کو اس پروگرام میں شامل کر رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے جیسے کیش لیس سوشل سیفٹی نیٹ کی طرف پیش رفت کر رہا ہے، جاز اس عمل میں اپنا کردار مزید بڑھانے کے لیے بھی تیار ہے۔
جاز کے سی ای او اور موبی لنک بینک کے چیئرمین عامر ابراہیم نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں کیش لیس سوشل سیفٹی نیٹ کی تشکیل اہم قدم ہے۔ بی آئی ایس پی کی خواتین کیلئے مفت سمز اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا آغاز نہ صرف نظام میں جدت ہے بلکہ خواتین کو عزت، رازداری اور اپنی مالی زندگی پر مکمل اختیار بھی دیتا ہے۔ جاز اس قومی ترجیح کا حصہ بننے اور ایک شفاف اور مستحکم مالی نظام کی تشکیل میں کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔
سمز کی تقسیم سندھ میں شروع ہو چکی ہے جبکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مقررہ علاقوں میں اس کا دائرہ بتدریج بڑھایا جارہا ہے۔ ہزاروں خواتین کے لیے یہ پہلا موقع ہوگا کہ انہیں اپنی ڈیجیٹل شناخت، پہلا موبائل والیٹ اور پہلی بار مالی خودمختاری حاصل ہوگی۔
محفوظ موبائل والیٹس کے ذریعے خواتین باآسانی رقم وصول کر سکیں گی، بچت کریں گی، بل ادا کریں گی اور ڈیجیٹل معیشت میں فعال حصہ لیں گی۔ اس سے گھریلو استحکام بڑھے گا اور نقد نظام سے پیدا ہونے والی مالی بے ضابطگی کم ہوگی۔
یہ اقدام خواتین کی ڈیجیٹل اور مالی شمولیت کے لیے جاز کی دیرینہ کوششوں کا تسلسل ہے۔ وزیراعظم کی قومی ڈیجیٹلائزیشن ترجیحات کے مطابق، جاز حکومت کے ساتھ مل کر سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور مالی لین دین کو محفوظ کرنے میں کام کر رہا ہے۔ یہ اقدام کمزور خواتین کو وہ سہولیات فراہم کرتا ہے جو انہیں کیش لیس مستقبل میں بہتر مواقع استعمال کرنے کے قابل بنائیں۔


Comments
Comments are closed.