پاکستان کا بھارت میں بڑھتے اسلامو فوبیا، ثقافتی ورثے کی بے حرمتی پر عالمی کارروائی پر زور
- وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ 1992 میں بابری مسجد کا انہدام اور اس جگہ مندر کی تعمیر بھارت کے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے
پاکستان نے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ تعمیر شدہ مبینہ ”رام مندر“ پر حالیہ پرچم کشائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویے کے ایک وسیع رجحان کا حصہ قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کی 25 نومبر کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہےکہ 1992 میں انتہا پسند ہجوم کے ذریعے بابری مسجد کا انہدام اور اس کے بعد اس جگہ مندر کی تعمیر بھارت کے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی دیگر تاریخی مساجد بھی اب توہین یا انہدام کے خطرات سے دوچار ہیں جبکہ مسلمان معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی طور پر نظر انداز اور کمزور صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستان نے بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ سے بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقریر اور نفرت پر مبنی حملوں پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے اسلامی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تمام اقلیتوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
بیان میں بھارت کی حکومت سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے، تمام مذہبی برادریوں بشمول مسلمانوں کی سلامتی کو یقینی بنائے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ان کے عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔


Comments
Comments are closed.