بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بحالی، پہلی سہ ماہی میں 4.08 فیصد نمو ریکارڈ
- اگرچہ برآمدات میں کوئی خاص اضافہ نظر نہیں آرہا، تاہم مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مضبوط بہتری دیکھنے میں آرہی ہے، ماہرین
بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں بحالی کے آثار دکھاتے ہوئے 4.08 فیصد کی مجموعی نمو ریکارڈ کی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران ایل ایس ایم انڈسٹریز کی پیداوار گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.08 فیصد زیادہ رہی۔
ستمبر 2025 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں گزشتہ برس کے ستمبر کے مقابلے میں 2.69 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگست 2025 میں یہ اضافہ 2.05 فیصد رہا۔
مجموعی 4.08 فیصد نمو میں نمایاں شعبوں کا حصہ ان کے کوانٹم انڈیکس نمبر (کیو آئی ایم) کے وزن کے مطابق یوں ہے: فوڈ (0.91)، تمباکو (0.05)، ٹیکسٹائل (0.34)، گارمنٹس (0.42)، پیپر اینڈ بورڈ (0.13), پیٹرولیم مصنوعات (منفی0.26)، کیمیکلز (منفی0.19)، دواسازی (منفی0.30)، سیمنٹ (0.83)، آئرن اینڈ اسٹیل مصنوعات (منفی0.16)، برقی آلات (0.11)، مشینری و آلات (منفی0.04)، آٹو موبائلز (1.84)، دیگر ٹرانسپورٹ آلات (0.20)، اور فرنیچر (منفی0.40)۔
جولائی تا ستمبر 2025-26 میں پیداوار گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں فوڈ (0.91 فیصد)، تمباکو (0.04 فیصد)، ویئرنگ اپیرل (0.42 فیصد)، نان میٹالک منرل مصنوعات (0.81 فیصد)، برقی آلات (0.11 فیصد)، آٹوموبائلز (1.84 فیصد) اور دیگر ٹرانسپورٹ آلات (0.20 فیصد) اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
جبکہ مندرجہ ذیل مصنوعات میں کمی ریکارڈ کی گئی: مشروبات (منفی0.05 فیصد)، کیمیکل مصنوعات (منفی0.13 فیصد)، آئرن اینڈ اسٹیل مصنوعات (منفی0.16 فیصد)، مشینری و آلات (منفی0.04 فیصد)، اور فرنیچر (منفی0.40 فیصد)۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ برآمدات میں کوئی خاص اضافہ نظر نہیں آرہا، تاہم مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مضبوط بہتری دیکھنے میں آرہی ہے، کیونکہ ڈالر کے بلند نرخوں کے باعث زیادہ تر درآمدی اشیا عوام کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.