امریکہ نے تائیوان کو فضائی دفاعی میزائل سسٹم فروخت کرنے کی تصدیق کر دی
- انڈو-پیسیفک خطے میں اس سسٹم کو اب صرف آسٹریلیا اور انڈونیشیا ہی استعمال کرتے ہیں۔
امریکہ نے تائیوان کو جدید میزائل سسٹم فروخت کرنے کی تصدیق کر دی ہے جس کی مالیت تقریباً 700 ملین ڈالر ہے اور یہ سسٹم یوکرین میں عملی طور پر آزمایا جا چکا ہے۔ یہ ایک ہفتے کے اندر تائیوان کو بھیجی جانے والی دوسری ہتھیاروں کی کھیپ ہے، جس سے مجموعی رقم ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور امریکہ نے تائی پے کے لیے اپنی حمایت کو دہرایا ہے۔
انڈو-پیسیفک خطے میں اس سسٹم کو اب صرف آسٹریلیا اور انڈونیشیا ہی استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ تائیوان کو اس 2 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے معاہدے کے تحت تین یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔
یہ میڈیم رینج ایئر ڈیفنس سسٹم، جسے نیشنل ایڈوانسڈ سر فیس ٹو ایئر میزائل سسٹم کہا جاتا ہے، آر ٹی ایکس کمپنی تیار کرتی ہے اور یہ تائیوان کے لیے نیا ہتھیار ہے۔ پینٹاگون کے مطابق ان یونٹس کی خریداری کے لیے کمپنی کو فکسڈ پرائس کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور کام فروری 2031 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
امریکی سرکاری بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 2026 کے لیے تائیوان کی فوجی فروخت کے فنڈز میں 698,948,760 ڈالر مختص کیے گئے۔ نیشنل ایڈوانسڈ سر فیس ٹو ایئر میزائل روسی حملے سے بچاؤ کے لیے یوکرین میں استعمال ہوا، اور اب یہ تائیوان کی فضائی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
امریکہ کے تائی پے میں موجود عارضی سفیر ریمونڈ گرین نے کہا کہ امریکہ کی تائیوان کے ساتھ وابستگی مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان وعدوں کی حمایت عمل سے کر رہا ہے اور تائیوان کی طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششوں کی مدد کر رہا ہے۔
پینٹاگون نے جمعرات کو تائیوان کو فائٹر جیٹ اور دیگر طیاروں کے پرزے فروخت کرنے کی بھی منظوری دی جس کی مالیت 330 ملین ڈالر ہے۔ یہ ڈیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پہلا ایسا معاہدہ ہے۔
چین اور جاپان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر کشیدگی کے درمیان تائیوان کی فوج اپنی ہتھیاروں کی تیاری بڑھا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے اپنے زیرِ سمندری اور فضائی راستوں کی حفاظت کر سکے۔


Comments
Comments are closed.