بہار انتخابات، بی جے پی اتحاد کو اکثریت ملنے کا امکان
- یہ کامیابی مودی کے لیے اس وقت اہم ہے جب پچھلے سال قومی انتخابات میں ان کی پارٹی کو مایوس کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا تھا
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران اتحادی جماعت کو بھارت کے غریب اور گنجان آبادی والے صوبہ بہار میں آسان اکثریت حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں جمعہ کو ووٹ گنتی کے ابتدائی نتائج سامنے آئے۔ یہ کامیابی مودی کے لیے اس وقت اہم ہے جب پچھلے سال قومی انتخابات میں ان کی پارٹی کو مایوس کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بہار بھارت کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، جہاں تقریباً 130 ملین لوگ رہائش پذیر ہیں، اور یہ پارلیمنٹ کے لیے پانچویں نمبر پر سب سے زیادہ نمائندے بھیجتا ہے۔ مشرقی ریاست پر کنٹرول کسی بھی پارٹی کی بھارت میں طاقت کو مستحکم کرتا ہے اور قومی سیاسی بیانیے کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔
مودی کی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) آسانی سے 122 نشستوں کی اکثریت عبور کر سکتی ہے، کیونکہ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یہ اتحاد 170 سے زیادہ نشستوں میں آگے ہے۔ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ این ڈی اے 191 نشستوں میں آگے ہے، جو پچھلی بار کے مقابلے میں 69 نشستوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ بہار کا مینڈیٹ واضح ہے! عوام نے واضح کر دیا کہ اب ترقی شناخت ہے، جنگل راج نہیں، اچھی حکمرانی ضروری ہے! بہار کے نتائج مودی کے لیے ایک بڑا پلٹاؤ ثابت ہوں گے، کیونکہ پچھلے سال قومی انتخابات میں ان کی پارلیمانی اکثریت ختم ہو گئی تھی اور انہیں اقتدار میں رہنے کے لیے اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بہار کے انتخابات میں خواتین ووٹروں کا کردار اہم رہا۔ ستمبر میں مودی کی حکومت نے صوبے کی لاکھوں خواتین کو 75 ارب روپے (تقریباً 853 ملین ڈالر) کے امدادی پروگرام کے تحت رقم منتقل کی، جس نے خواتین ووٹروں کو متحرک کیا۔ تازہ سروے کے مطابق مودی کے اتحاد نے خواتین کے ووٹوں میں 48.5 فیصد حصّہ حاصل کیا، جو مرکزی اپوزیشن اتحاد سے 10 فیصد زیادہ ہے۔
آئندہ برس آسام، مغربی بنگال اور تمل ناڑو میں انتخابات ہونے ہیں، جہاں صرف آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔


Comments
Comments are closed.