BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

بینامی ایکٹ 2017 کا ماضی کے سودوں اور ایمنسٹی اسکیم پر اطلاق نہیں ہوتا ، فیڈرل اپیلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ

  • ایکٹ 2017 سے پہلے ہونے والے سودے مکمل شدہ لین دین تصور ہونگے ، ٹربیونل ، بینامی جائیدادوں کی ضبطگی کے احکامات کالعدم قرار
شائع اپ ڈیٹ

فیڈرل اپیلیٹ ٹربیونل اسپیشل بینچ کراچی نے قرار دیا ہے کہ بینامی ٹرانزیکشنز (ممانعت) ایکٹ 2017 ماضی کے سودوں سے بننے والی جائیدادوں یا ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر کی گئی جائیدادوں پر لاگو نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے دو رکنی بینچ نے بینامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی کراچی کے فیصلے کے خلاف تفصیلی حکم جاری کیا ہے۔ یہ مقدمہ کراچی کے ایک بلڈر اور ڈیولپر کی مبینہ بینامی جائیداد سے متعلق تھا۔

ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینامی جائیداد صرف اسی صورت ضبط کی جا سکتی ہے جب وہ 2017 کے ایکٹ کے نفاذ کے بعد بینامی لین دین کا نتیجہ ہو۔

اس قانون کا اطلاق ان لین دین پر نہیں ہوتا جو ایکٹ کے نفاذ سے پہلے کیے گئے ہوں، کیونکہ اس وقت ایسے سودے ممنوع نہیں تھے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ماضی کے لین دین سے وجود میں آنے والی بینامی جائیدادوں کی ضبطگی کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں۔

ٹربیونل نے یہ بھی واضح کیا کہ بینامی ایکٹ 2017 کا اطلاق ان جائیدادوں پر بھی نہیں ہوتا جو ایسٹ ڈیکلریشن آرڈیننس 2019 (ایمنسٹی اسکیم) کے تحت ظاہر کی گئی ہوں۔

ٹربیونل کے مطابق بینامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی اور انیشی ایٹنگ افسر نے قانون کو ماضی پر لاگو کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

ایسے سودے جو ایکٹ سے پہلے ہوچکے تھے، اب مکمل شدہ لین دین کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے مالکوں کے حقوق قانونی طور پر محفوظ ہوچکے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بینامی جائیداد کی ضبطگی سے متعلق جاری کردہ حوالہ جات اور کارروائیاں بنیادی قانونی خامیوں کا شکار تھیں، اس لیے وہ قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتیں۔

اسپیشل بینچ کراچی نے آخر میں ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اٹیچمنٹ آرڈرز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا۔

Comments

Comments are closed.