BR100 Increased By (0.98%)
BR30 Increased By (1.31%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.59%)
BAFL 58.51 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 25.52 Increased By ▲ 0.32 (1.27%)
BOP 34.42 Increased By ▲ 0.43 (1.27%)
CNERGY 8.21 Increased By ▲ 0.10 (1.23%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 195.75 Increased By ▲ 2.78 (1.44%)
FABL 89.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 53.65 Increased By ▲ 0.82 (1.55%)
FFL 18.13 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 19.74 Increased By ▲ 0.77 (4.06%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.61 Decreased By ▼ -0.28 (-1%)
MLCF 87.70 Increased By ▲ 1.19 (1.38%)
OGDC 324.15 Increased By ▲ 4.19 (1.31%)
PAEL 39.78 Increased By ▲ 0.36 (0.91%)
PIBTL 17.48 Increased By ▲ 0.81 (4.86%)
PIOC 270.88 Increased By ▲ 4.82 (1.81%)
PPL 230.05 Increased By ▲ 1.87 (0.82%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 27.16 Increased By ▲ 0.56 (2.11%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.37 (4.47%)
TPLP 8.77 Increased By ▲ 0.55 (6.69%)
TRG 71.12 Increased By ▲ 1.41 (2.02%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
دنیا

ترک فوجی طیارہ جارجیا میں گر کر تباہ ، 20 افراد سوار تھے

  • طیارے میں ترک اور آذری عملہ سوار تھا، مقامی میڈیا رپورٹ
شائع November 11, 2025 اپ ڈیٹ November 11, 2025 11:17pm

منگل کے روز جارجیا میں ترکی کا سی-130 فوجی کارگو طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس میں کم از کم 20 افراد سوار تھے۔ طیارہ آذربائیجان سے اڑان بھرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا، تاہم ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد اور حادثے کی وجہ واضح نہیں تھی۔

ابتدائی ویڈیو میں، جو آذربائیجان کی سرحد کے نزدیک منظر سے حاصل ہوئی، مڑھے ہوئے دھات کے ٹکڑے گھاس والے علاقے میں بکھرے ہوئے نظر آئے، طیارے کا کچھ حصہ اب بھی جل رہا تھا اور کالا دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موجود تھیں اور ہیلی کاپٹر اوپر سے گردش کر رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں طیارہ قلابازیاں کھاتے ہوئے زمین پر گر پڑا اور پھر آگ پکڑتے ہوئے دکھائی دیا، تاہم رائٹرز اس فوٹیج کی فوری تصدیق نہیں کر سکا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے انقرہ میں تقریر کے دوران توقف کرتے ہوئے اپنے ”شہداء“ کے لیے تعزیت کا اظہار کیا، یہ لفظ وہ عام طور پر نہ صرف لڑائی میں مارے جانے والے بلکہ سروس کے دوران جاں بحق اہلکاروں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

ایردوآن، ان کے دفتر اور وزارت نے حادثے کی وجہ یا ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔ مقامی میڈیا کے مطابق طیارے میں ترک اور آذری عملہ سوار تھا، تاہم کسی تعداد کی وضاحت نہیں کی گئی۔

آذربائیجان کے صدر ایلہام علی یف نے ایردوآن سے ٹیلی فون پر بات کے بعد ایک سرکاری بیان میں کہا کہ انہوں نے طیارے کے حادثے میں سروس مین کے نقصان کی المناک خبر پر تبادلہ خیال کیا۔

ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق طیارے میں 20 ترک اہلکار سوار تھے، جن میں فلائٹ کریو شامل ہیں، تاہم دیگر قومیتوں کے مسافروں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ترکی اور جارجیا نے کہا کہ وہ سگناخی میونسپلٹی، کاختی کے علاقے میں حادثے کی جگہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو سرحدی علاقے میں سیلابی جنگلات اور پہاڑی زمین پر مشتمل ہے۔

انقرہ میں تقریر کے اختتام پر ایردوآن کو اپنے معاونین کی جانب سے ایک نوٹ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ، ہم اس حادثے کو کم سے کم مشکلات کے ساتھ عبور کر لیں گے۔ اللہ ہمارے شہداء کی روح کو سکون دے، اور ہم اپنی دعاؤں میں ان کے ساتھ ہوں۔

جارجیا کی انٹرپریس نیوز ایجنسی نے ملک کی وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات فضائی نقل و حمل اور جانی نقصان کے متعلقہ فوجداری قانون کے تحت کی جا رہی ہیں۔

آذربائیجان، جو نیٹو کے رکن ملک ترکی کا قریبی اتحادی ہے، نے بتایا کہ طیارہ شہر گنجا سے اڑان بھرا تھا۔

لاک ہیڈ مارٹن کا C-130 ہرکولیس

امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن، جو دنیا بھر کی فضائی افواج کے لیے C-130 ہرکولیس تیار کرتی ہے، نے حادثے سے متاثر ہونے والوں اور ترکی کی فضائیہ اور شہریوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا۔ کمپنی کے ترجمان کرس کارنز نے کہا ہے کہ ہم اپنے کسٹمر کی حمایت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جب وہ تحقیقات کر رہے ہیں۔

سی- 130 ہرکولیس ایک کارگو، فوجی اور سازوسامان لے جانے والا طیارہ ہے۔ یہ چار انجن والا ٹربو پروپ فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو غیر تیار شدہ رن ویز سے بھی اڑان اور لینڈنگ کر سکتا ہے۔

اس کے کثیر المقاصد فریم کی بدولت اسے دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے گن شپ، فضائی حملے اور نگرانی کے آپریشنز۔ یہ اب کئی افواج کے لیے اہم ٹیکٹیکل ایئرلفٹرز میں شمار ہوتا ہے۔

 ۔
۔

Comments

Comments are closed.