وزیرِاعظم شہباز شریف کی اتحادی جماعتوں سے 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت
- ایم کیو ایم کا آرٹیکل 140 میں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ
وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں سات رکنی وفد نے وزیرِاعظم سے ملاقات کی، جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والی اس پارٹی نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔
ایم کیو ایم کے وفد میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال، ارکانِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، جاوید حنیف خان، سید امین الحق اور خواجہ اظہارالحسن شامل تھے۔
ملاقات میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطااللہ تارڑ، طارق فضل چوہدری اور وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ بھی موجود تھے۔
ایم کیو ایم کے وفد نے وزیرِاعظم کو بلدیاتی اداروں سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم پر بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے آئین کے آرٹیکل 140 میں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی حکومتوں کو زیادہ آئینی اختیارات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے وفد نے عام انتخابات 90 دن کے اندر کرانے اور اسمبلیوں کی مدت پانچ کے بجائے چار سال کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
ایم کیو ایم کی جانب سے ایک اور اہم سفارش یہ دی گئی کہ صوبوں کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت ملنے والے فنڈز کو براہِ راست بلدیاتی حکومتوں تک منتقل کیا جائے، تاکہ ترقیاتی وسائل نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔
ایم کیو ایم نے موقف اختیار کیا کہ شہری علاقوں کے مسائل اُس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ اور مالی خودمختاری نہیں دی جاتی۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری دینے کی بھی سفارش کی۔
دوسری جانب استحکامِ پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان اور سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے وزیر مملکت عون چوہدری نے بھی جمعرات کے روز وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کی۔
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چار رکنی وفد نے بھی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے کی جبکہ سینیٹر کامل علی آغا اور ارکانِ قومی اسمبلی چوہدری محمد الیاس اور فرخ خان بھی وفد میں شامل تھے۔ ملاقات کے دوران مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ادھر نائب وزیرِاعظم اور قائدِایوان سینیٹ اسحاق ڈار نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ حکومت 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر قانون سازی کے مسودے پہلے قومی اسمبلی میں پیش کیے جاتے ہیں، لیکن اگر ایوانِ بالا چاہے تو حکومت سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ یہ ترمیم پہلے سینیٹ میں پیش کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ کو ہدایت دی ہے کہ حکومت سے مشاورت کر کے ترمیمی بل کو قومی اسمبلی سے قبل سینیٹ میں لانے کے امکانات پر غور کیا جائے۔

Comments
Comments are closed.