پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ڈھوک سلطان-03 کنویں سے تیل و گیس کی باقاعدہ پیداوار شروع کر دی ہے جو ملکی توانائی شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
کمپنی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ پیداوار ایپریزل/ ای ڈبلیو ٹی انتظامات کے تحت یکم نومبر 2025 سے شروع کی گئی۔
پی پی ایل اس منصوبے میں 75 فیصد حصص کے ساتھ آپریٹر کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ جی ایچ پی ایل (گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ) کے پاس 25 فیصد شراکت داری ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ تیل کی ہینڈلنگ ڈھوک سلطان آئل ہینڈلنگ فیسلٹی میں کی جا رہی ہے جب کہ پیدا شدہ گیس کو میال گیس پروسیسنگ فیسلٹی میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
تیل کی فروخت اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) کو کی جا رہی ہے، جب کہ گیس سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کو فراہم کی جا رہی ہے جو حکومتِ پاکستان کا نامزد خریدار ہے۔
دوسری جانب پیداوار کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، یومیہ 1,400 بیرل تیل، 2.5 ایم ایم ایس سی ایف گیس اور 15 ٹن ایل پی جی کی فراہمی ممکن ہو گی، جو توانائی کے شعبے میں ملک کی اندرونی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
پی پی ایل کے ترجمان کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف ملکی توانائی تحفظ کو مضبوط کرے گی بلکہ مقامی ہائیڈروکاربن وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کی بچت میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔


Comments
Comments are closed.