BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا فضائی آپریشن پیر کے روز مکمل طور پر معطل ہو گیا، جب ایئرکرافٹ انجینئرز نے سنگین حفاظتی خدشات کے باعث تکنیکی سرٹیفکیشن روک دیا، جس کے نتیجے میں مسافروں کو مشکلات اور قومی فضائی کمپنی کو ایک نئے آپریشنل بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (ایس اے ای پی) نے ائیر ورتھینس سرٹیفکیٹ جاری کرنا بند کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد طیارے گراؤنڈ ہو گئے اور اندرون و بیرون ملک پروازوں کی بڑی تعداد منسوخ کر دی گئی۔ اس اقدام سے ہزاروں مسافروں کے سفر کے منصوبے متاثر ہوئے اور پہلے سے مالی بحران کے شکار ادارے کو شدید دھچکا لگا۔

انجینئرز کی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم مسافروں کو ہونے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک تمام حفاظتی تقاضے پورے نہیں ہوں گے، کوئی طیارہ پرواز کے لیے روانہ نہیں کیا جائے گا۔

سوسائٹی نے واضح کیا کہ یہ اقدام ہڑتال نہیں بلکہ ایک ریگولیٹری ذمہ داری ہے، جو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اے این او-145 ضوابط اور بین الاقوامی ہوابازی کے معیارات کے تحت عائد ہوتی ہے۔ ایس اے ای پی کے مطابق، جب حفاظتی پروٹوکول متاثر ہوں اور دیکھ بھال کے وسائل ناکافی ہوں، تو انجینئر قانونی طور پر کسی طیارے کو ائیر ورتھی قرار نہیں دے سکتے۔

یہ بحران پی آئی اے کے انتظامی ڈھانچے میں سنگین خامیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ایس اے ای پی کا کہنا ہے کہ ادارے کے اعلیٰ حکام نے بارہا رابطے کے باوجود بات چیت سے انکار کیا اور انجینئرز کے تحفظاتی خدشات، تکنیکی سہولیات اور کام کے حالات پر توجہ نہیں دی۔

دوسری جانب، پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ نے ایس اے ای پی کو غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے لازمی خدمات ایکٹ کے تحت کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایئرلائن دیگر فضائی کمپنیوں سے انجینئرنگ خدمات حاصل کر کے پروازیں بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور الزام عائد کیا کہ انجینئرز نجکاری کے عمل کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایس اے ای پی کے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

طیاروں کی گراؤنڈنگ سے پی آئی اے کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔ ادارہ پہلے ہی ستمبر میں بوئنگ 777 کی دیکھ بھال کے باعث کینیڈا کی پروازیں معطل کر چکا ہے، جو تاحال بحال نہیں ہو سکیں۔ دوسری جانب، برطانیہ کے لیے پروازیں جو 25 اکتوبر کو پانچ سال بعد دوبارہ شروع کی گئی تھیں، اب حفاظتی خدشات کے پیش نظر ایس ای اے پی کے اقدام کے باعث دوبارہ معطل کر دی گئی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.