پاکستان نے بدھ کے روز غزہ میں اسرائیلی قابض افواج کے نئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی پامالی قرار دیا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کے نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایسی جارحانہ کارروائیاں خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے جاری عالمی کوششوں کو کمزور کر سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی واضح اور سنگین خلاف ورزی ہیں اور حالیہ امن معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔
مزید کہا گیا کہ اسرائیلی قابض افواج کی ایسی جارحانہ کارروائیاں خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
بیان میں اسلام آباد کی فلسطینی عوام کی جدوجہد کے لیے مستقل اور اصولی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ جون 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل ریاستِ فلسطین قائم کی جائے۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اس وقت تک ایک خواب ہی رہے گا جب تک فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تلاش نہیں کیا جاتا۔


Comments
Comments are closed.