وزیرِاعظم شہباز شریف پیر کو سعودی عرب پہنچ گئے، جہاں وہ ریاض میں ہونے والے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی 9) کے نویں ایڈیشن میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر برادر ملک کا یہ دورہ کر رہے ہیں۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وزیرِاعظم اور پاکستانی وفد کا استقبال ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے کیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیرِخزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِاطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور معاونینِ خصوصی طارق فاطمی و بلال بن ثاقب شامل ہیں۔
اپنے قیام کے دوران وزیرِاعظم سعودی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر بات چیت کی جائے گی۔
اس دوران گفتگو میں خطے اور عالمی سطح پر باہمی دلچسپی کے امور بھی شامل ہوں گے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کا نواں اجلاس عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور ماہرین کو ایک جگہ جمع کرے گا تاکہ خوشحالی کی کنجی : ترقی کی نئی سرحدوں کا انکشاف کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
اجلاس میں پائیدار ترقی، اقتصادی شمولیت، جدت، ماحولیاتی استحکام اور عالمی جغرافیائی تغیرات جیسے موضوعات پر بات چیت ہوگی، جبکہ وزیرِاعظم شہباز شریف ان اہم امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری دورۂ ریاض کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
اس معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

Comments
Comments are closed.