ارجنٹائن میں اتوار کے روز قانون ساز انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے، جو صدر جویئر میلی کی آزاد منڈی پر مبنی اصلاحات اور سخت کفایت شعاری اقدامات کے لیے عوامی حمایت کا اہم امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات سے یہ بھی طے ہوگا کہ کیا صدر میلی کو اپنی معاشی اصلاحات کے تسلسل کے لیے پارلیمانی حمایت حاصل رہتی ہے یا نہیں۔
صدر کی جماعت لا لیبرداد آوانزاکا مقصد کانگریس میں اپنی معمولی نمائندگی میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت برقرار رہے، جنہوں نے حال ہی میں ارجنٹائن کو مالی امداد فراہم کی ہے مگر خبردار کیا ہے کہ اگر میلی کی کارکردگی بہتر نہ رہی تو یہ تعاون محدود کیا جا سکتا ہے۔
میلی نے جمعرات کو روزاریو شہر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمت مت ہارو، ہم نصف راستہ طے کر چکے ہیں۔ ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔
ان انتخابات میں ارجنٹائن کی ایوانِ زیریں (چیمبر آف ڈپٹیز) کی نصف نشستیں یعنی 127 نشستیں اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستیں یعنی 24 نشستیں شامل ہیں۔ موجودہ وقت میں پیرو نسٹ اپوزیشن دونوں ایوانوں میں سب سے بڑی اقلیتی جماعت ہے، جبکہ میلی کی جماعت کے پاس محض 37 ارکانِ قومی اسمبلی اور 6 سینیٹرز ہیں۔
امریکی انتظامیہ اور غیر ملکی سرمایہ کار حکومت کی ان کامیابیوں سے متاثر ہوئے ہیں جن میں ماہانہ افراطِ زر کو 12.8 فیصد سے کم کر کے 2.1 فیصد تک لانا، مالیاتی سرپلس حاصل کرنا اور بڑے پیمانے پر ڈی ریگولیشن شامل ہے۔
تاہم عوامی اخراجات میں کٹوتیوں اور اپنی بہن (جو ان کی چیف آف اسٹاف بھی ہیں) سے منسلک بدعنوانی اسکینڈل کے باعث میلی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔
بیونس آئرس کے گورنر ایکسل کیسیلوف نے پیرو نسٹ اتحاد کے جلسے میں کہا کہ میلی کا اقتصادی ایڈجسٹمنٹ بے رحمی اور چالاکی سے کیا گیا ہے، وہ ہر متاثرہ شہری کے زخم پر خوش ہوتے ہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میلی کو 35 فیصد سے زائد ووٹ مل گئے تو یہ ان کی حکومت کے لیے مثبت نتیجہ ہوگا اور ممکن ہے کہ وہ دیگر جماعتوں سے اتحاد کر کے اپوزیشن کی جانب سے ان کے ویٹوز کے خاتمے کی کوششوں کو روک سکیں۔
نتائج کے بعد تجزیہ کاروں نے ارجنٹائن کے کرنسی ریٹ میں کمی (ڈیویلیوایشن) کا امکان ظاہر کیا ہے، جو فی الحال افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے مصنوعی طور پر بلند رکھا گیا ہے۔ اگر میلی کی جماعت توقعات سے کم ووٹ حاصل کرتی ہے، تو اس کا نتیجہ زیادہ سخت زرمبادلہ پالیسی میں سامنے آ سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.