پاکستانی ورک اسپیس اسٹارٹ اپ کولیبز (COLABS) نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب میں کام شروع کرنے جا رہا ہے، جہاں وہ ریاض میں اپنی فلیگ شپ سائٹ قائم کرے گا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
کولیبز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شریک بانی عمر شاہ نے کہا کہ سعودی عرب میں ہماری توسیع کولیبز کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، کیونکہ ہم وہ سب کچھ جو ہم نے پاکستان میں تعمیر کیا ہے، اب خطے کی سب سے متحرک منڈیوں میں سے ایک تک لے جا رہے ہیں۔
ریاض میں یہ سائٹ سعودی عرب میں کولیبز کی مرکزی (فلیگ شپ) لوکیشن ہوگی اور میناپ خطے میں کمپنی کی توسیع کے لیے ایک مرکزی ستون کا کردار ادا کرے گی۔ طویل المدت بنیادوں پر کمپنی کا مقصد سعودی سرمایہ اور کارپوریشنز کو ابھرتی ہوئی منڈیوں کے اسٹارٹ اپس اور ٹیلنٹ سے جوڑنا ہے۔
عمر شاہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا ویژن 2030 اختراع (انوویشن) اور انٹرپرینیورشپ کے لیے غیر معمولی رفتار پیدا کر رہا ہے۔ ہم ریاض کو اپنی میناپ کے سفر کا قدرتی نقطۂ آغاز سمجھتے ہیں ایک ایسا مرکز جہاں ہم ایکو سسٹمز کو جوڑنے، بانیوں کو مربوط کرنے، اور ایسی کمیونٹیز بنانے میں مدد کرسکیں جو دونوں ممالک کو قریب لائیں۔
کمپنی کے مطابق، ریاض میں سائٹ اس وقت تعمیر کے مرحلے میں ہے اور آنے والے مہینوں میں کھلنے کی توقع ہے۔ یہ کولیبز کی میناپ خطے میں توسیع کی حکمتِ عملی کا پہلا مرحلہ ہے۔
کولیبز نے مزید بتایا کہ اس نے اضافی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے اور واسیل انویسٹمنٹ کے ساتھ ایک مقامی شراکت داری کو باضابطہ شکل دے دی ہے، جو ریاض سائٹ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
یہ مقامی شراکت داری، اکتوبر 2024 میں ہونے والے کولیبز کے پچھلے فنڈنگ راؤنڈ کے بعد سامنے آئی، جس کی قیادت شرووق اور واد وی سی نے کی تھی۔
واسیل پارٹنرز کے ڈائریکٹر آف انویسٹمنٹ، فیصل الراشد نے کہا کہ یہ تعاون محض ایک سرمایہ کاری نہیں، بلکہ دو ترقی پذیر ایکو سسٹمز کے درمیان ایک پُل ہے۔ ہم مل کر مزید پاکستانی اسٹارٹ اپس اور کاروباروں کو سعودی عرب لانے میں مدد کریں گے، اور اُن سعودی کاروباری افراد کے لیے دروازے کھولیں گے جو پاکستان میں ٹیلنٹ اور اختراع سے جڑنا چاہتے ہیں۔
کولیبز نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب اس وقت میناپ خطے کا سب سے تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے، جس نے 2024 میں 2 ارب ڈالر سے زائد کی وینچر فنڈنگ حاصل کی اور تمام علاقائی معاہدوں کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ اپنے نام کیا۔
مزید بتایا گیا کہ کو ورکنگ مارکیٹ کے 2025 تک ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ تیزی سے پھیلتی ہوئی کاروباری برادری ریاض کو کولیبز کی اگلی ترقی کے مرحلے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
پاکستان کی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، شیزا فاطمہ خواجہ نے کولیبز کو سعودی عرب میں توسیع پر مبارک باد دی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان اپنے ڈیجیٹل تعلقات کو مزید گہرا کر رہے ہیں، اور دونوں ممالک سرحد پار ڈیجیٹل سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ کولیبز کی توسیع واضح طور پر ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن کے عملی اظہار کی علامت ہے جو ہماری سرحدوں سے آگے تک جا رہی ہے۔
کولیبز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس نے اپنی شناخت صرف ورک اسپیسز تک محدود نہیں رکھی بلکہ کمیونٹی پر مبنی اپروچ کے ذریعے بانیوں کی معاونت کے پروگرامز اور تخلیقی اقدامات پر توجہ دی ہے، جیسے کہ کولیبز کری ایٹو کلیکٹیو اور آرٹسٹ اِن ریزیڈنس پروگرام۔
کولیبز کی بنیاد 2019 میں لاہور میں رکھی گئی اور آج یہ 10 فعال سائٹس کے ذریعے 5,000 سے زائد ممبرز، 300 کمپنیوں اور 250 پارٹنرز کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔
اس کے نیٹ ورک سے منسلک اسٹارٹ اپس نے مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کیا ہے، جب کہ پلیٹ فارم ہر سال 1,000 سے زیادہ ایونٹس کی میزبانی کرتا ہے اور پانچ لاکھ سے زائد وزیٹرز کو خوش آمدید کہتا ہے۔
کولیبز کو خطے کی نمایاں وینچر کیپیٹل فرمز کی معاونت حاصل ہے، جن میں شرووق ، انڈس ویلی کیپیٹل، فاطمہ گوبی وینچرز ، زین وی سی ، واد انویسٹمنٹ اور متعدد نمایاں اینجل انویسٹرز شامل ہیں۔


Comments
Comments are closed.