BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان اور ترکیہ نے جمعرات کو سمندری تعاون کے نئے شعبوں پر بات چیت کی، جن میں جہاز سازی میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات، بندرگاہوں کی ترقی، ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کے درمیان فیری سروس کے ممکنہ آغاز پر غور شامل ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ بات وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور ترکیہ کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ و انفرااسٹرکچر عبدالقدیر اورالوٗلو کے درمیان ملاقات میں طے پائی۔

دونوں فریقوں نے سمندری رابطوں کو فروغ دینے اور پائیدار منصوبوں کے ذریعے اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ پہنچ سکے۔

وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ پاکستان جہاز سازی، بندرگاہوں کی ترقی اور شپ بریکنگ انڈسٹری میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔

انہوں نے ترک نجی سرمایہ کاروں کو گوادر بندرگاہ میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بلیو اکنامی سے متعلق صنعتوں کے لیے بے پناہ امکانات رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان گوادر کو ایک جدید سمندری و لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو علاقائی تجارت کو سہولت فراہم کرے گا اور قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ترکیہ کے ساتھ تعاون سے پاکستان کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور علاقائی تجارت کے نئے راستے کھلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جہاز رانی، لاجسٹکس اور ماہی گیری جیسے نئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔

ترک وزیر عبدالقدیر اورالوٗلو نے سمندری شعبے میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ فیری سروس کے مجوزہ منصوبے پر ترکیہ کی متعلقہ وزارت سے بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی سروس سے سیاحت کو فروغ ملے گا، دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا اور عوامی روابط مضبوط ہوں گے کیونکہ یہ ایک سستا سمندری سفری ذریعہ فراہم کرے گی۔

اورالوٗلو نے اعلان کیا کہ ترک جہاز مالکان اور بندرگاہی خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر مشتمل ایک وفد جلد پاکستان بالخصوص گوادر کا دورہ کرے گا ، تاکہ سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے پاکستان کی بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ترک کمپنیاں باہمی مفاد کے منصوبوں میں حصہ لینے کی خواہشمند ہیں۔

جنید چوہدری نے ترک وفد کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان اپنی بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اقدامات کر رہا ہے، خاص طور پر گوادر کی اپ گریڈیشن پر توجہ مرکوز ہے۔

ماہی گیری کے شعبے میں مواقع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 25 ہزار ٹن ٹونا مچھلی کا کوٹہ موجود ہے اور ترک سرمایہ کاروں کو ویلیو ایڈیشن اور کیننگ پلانٹ قائم کر کے برآمدی منڈیوں کو ہدف بنانے کی ترغیب دی۔

وزیر نے مزید اعلان کیا کہ پاکستان آئندہ تین ماہ میں ایک بڑی سمندری کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

Comments

Comments are closed.