وزیراعظم شہباز شریف نے قطری سرمایہ کاروں کو حکومت کے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) فریم ورک کے تحت تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ہے۔
وزیراعظم نے یہ دعوت قطر کے وزیرِ تجارت و صنعت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل آل ثانی سے ملاقات کے دوران دی، جو پاکستان اور قطر کے درمیان چھٹے مشترکہ وزارتی اجلاس (جے ایم سی) کی صدارت کے لیے پاکستان کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور قطر کے تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جو باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور مذہبی رشتے پر مبنی ہیں۔ انہوں نے قطر کو ایک اہم شراکت دار اور خطے میں مؤثر ثالث قرار دیا۔
وزیراعظم نے توانائی، زراعت، فوڈ سیکیورٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان میں سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے قطری سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔
ملاقات کے دوران شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل آل ثانی نے قطری قیادت کی جانب سے نیک تمنائیں پہنچائیں اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا چھٹا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون کا جائزہ لینے اور نئے مشترکہ منصوبوں کی نشاندہی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
وزیراعظم نے علاقائی اور عالمی امور پر قطر کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور علاقائی و عالمی فورمز پر تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کاروباری روابط اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں عملی پیش رفت کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے۔
ذرائع کے مطابق، قطر نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں 3 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس میں ریکوڈک منصوبہ اور پاکستان کے تین ہوائی اڈوں میں شیئرز کی خریداری شامل ہے۔ یہ پیشکش اسلام آباد میں منعقدہ چھٹے پاکستان-قطر مشترکہ وزارتی اجلاس کے دوران کی گئی، جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان اور قطری وزیرِ تجارت و صنعت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل آل ثانی نے کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.