یورپی یونین کے ساتھ اہم تجارتی مراعات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے پولینڈ سے سفارتی تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ 2027 کے بعد بھی جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل کیا جا سکے۔
جمعرات کو وزارتِ خارجہ میں اپنے پولش ہم منصب رادوسلاو سیکورسکی کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم پولینڈ کی حمایت کے منتظر ہیں تاکہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کی توسیع میں مدد ملے، جو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) اور معاشی نمو کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس 2023 میں ختم ہو چکا تھا، تاہم موجودہ اسکیم میں چار سال کی توسیع کر کے اسے 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ پاکستان اس دوران نئی شرائط پر عمل کرتے ہوئے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ 2027 کے بعد اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق اور ماحولیات سے متعلق اضافی معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت اس وقت ایک ارب ڈالر کے قریب ہے، جس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کے شعبے میں نصف ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جسے مزید بڑھایا جائے گا۔
دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں تجارت، توانائی، دفاع اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ فِن ٹیک، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ پاکستان اور پولینڈ کے مؤقف غزہ، فلسطین اور دیگر بین الاقوامی امور پر یکساں ہیں۔
پولینڈ کے نائب وزیرِ اعظم سیکورسکی نے کہا کہ تیل و گیس کا شعبہ ان کی سرمایہ کاری کی ترجیح ہے، جبکہ تجارت، پبلک فنانس، فِن ٹیک، آبی انتظام اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی بات ہوئی۔ انہوں نے معدنیات کے شعبے میں مزید شراکت داری کی خواہش کا اظہار کیا۔
رادوسلاو سیکورسکی نے عوامی روابط کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولینڈ قانونی ہجرت اور علمی تبادلوں کے لیے کھلا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے جنوبی ایشیا، افغانستان، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بھارتی جارحیت پر پاکستان کے خدشات سے پولش وفد کو آگاہ کیا اور جموں و کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات اور افغان سرزمین پر شدت پسند عناصر کی موجودگی پر بھی بات چیت ہوئی۔ اجلاس کے دوران دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں باہمی مشاورت اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کا فریم ورک شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.