وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ سے اجازت ملنے کے بعد جمعرات کو اڈیالہ جیل پہنچے ، تاکہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کر سکیں، تاہم پولیس نے انہیں ڈھگل چیک پوسٹ پر روک دیا۔
ذرائع کے مطابق آج نیوز نے رپورٹ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالتی اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد اڈیالہ جیل کا رخ کیا، مگر پولیس نے انہیں چیک پوسٹ پر روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔
پولیس کے اس اقدام کے خلاف وزیراعلیٰ کے پی نے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس عدالت کی تحریری اجازت موجود ہے اور اپنے قائد سے ملاقات ان کا قانونی حق ہے۔
موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جبکہ صورتحال کشیدہ مگر قابو میں بتائی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے فیس بک پر شیئر کی گئی ویڈیو میں پارٹی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل انتظامیہ گزشتہ سات ماہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے۔ عدالت کو چاہیے کہ جن لوگوں نے اس کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے انہیں طلب کرے اور سزا دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دے کر جیل نہیں بھیجا جائے گا دوسرے لوگ بھی ایسے فیصلوں کو نظرانداز کرنے سے نہیں ڈریں گے۔
سہیل آفریدی نے 16 اکتوبر کو بھی اپنے قائد سے ملاقات کی کوشش کی تھی، مگر حکام کو پیشگی اطلاع دینے کے باوجود انہیں ملاقات سے روک دیا گیا تھا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ملاقات کے انتظامات کے حوالے سے یہ معاملہ وزیراعظم کے ساتھ اٹھایا تھا، جنہوں نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس بارے میں پوچھ کر آگاہ کریں گے، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ایک روز قبل سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ انہوں نے پنجاب اور وفاقی حکومت دونوں کو اس معاملے سے آگاہ کیا تھا مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ تمام قانونی اور سیاسی راستے اختیار کیے جا چکے ہیں اور اب پی ٹی آئی کے پاس پُرامن احتجاج کا آپشن باقی ہے۔


Comments
Comments are closed.